نواسہ رسولؐ

نواسہ رسولؐ حضرت امام حسین ؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں ملک بھر میں آج یوم عاشورہ منایا جا رہا ہے

نواسہ رسولؐ حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار رفقاء کی میدانِ کربلا میں دی گئی عظیم قربانیوں کی یاد میں آج ملک بھر میں یومِ عاشورہ (10 محرم الحرام) انتہائی مذہبی عقیدت و احترام اور غم و اندوہ کے ماحول میں منایا جا رہا ہے ۔
اس سلسلے میں ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں تعزیتی مجالس کا انعقاد جاری ہے اور روایتی ماتمی جلوس برآمد ہو رہے ہیں۔

ٹی وی چینل کے مطابق، کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، سکھر اور حیدرآباد سمیت ملک کے طول و عرض میں شہدائے کربلا کی یاد میں جلوس نکالے جا رہے ہیں ۔
علمائے کرام اور ذاکرین امام عالی مقام کے پیغامِ حریت، باطل کے خلاف حق پر ڈٹ جانے کے اصولوں اور ان کی لازوال قربانی کی اہمیت پر روشنی ڈال رہے ہیں ۔

اہم شہروں کے مرکزی جلوس اور ان کے راستے:
کراچی کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا، جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیان امام بارگاہ، کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا۔

لاہورمیں نثار حویلی سے برآمد ہونے والا شبیہِ ذوالجناح کا مرکزی جلوس عقیدت مندوں کی بھاری تعداد کے ساتھ روایتی راستوں پر گامزن ہے۔ جلوس محلہ شیعاں پہنچا جہاں اذانِ علی اکبرؑ ادا کی گئی، جبکہ اس کا اختتام کربلا گامے شاہ پر ہوگا۔

راولپنڈی کا مرکزی جلوس امام بارگاہ عاشق حسین سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔

پشاورکے صوبائی دارالحکومت میں پہلا جلوس امام بارگاہ آغا سید علی رضی شاہ سے برآمد ہوا، جس کے بعد مزید 12 ماتمی جلوس نکالے جائیں گے جو اپنے طے شدہ مقامات پر پہنچیں گے ۔

کوئٹہ سے کوئٹہ کا مرکزی جلوس صبح ساڑھے 8 بجے امام بارگاہ حسینی سادات (سید آباد، علمدار روڈ) سے برآمد ہوا ۔

بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر عاشق حسین ہزارہ کی قیادت میں نکلنے والے اس جلوس میں شبیہِ ذوالجناح، علم اور تعزیوں کے 35 دستے شامل ہیں ۔

عزاداروں کے لیے راستوں میں ناشتے، ٹھنڈے پانی اور شربت کی سبیلوں سمیت امدادی کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں ۔ یہ جلوس نمازِ مغربین کے بعد اختتام پذیر ہوگا ۔

فول پروف سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات:
ملک بھر میں جلوسوں اور مجالس کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی اور انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں  ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری حساس مقامات پر تعینات ہے ۔

رکاوٹیں اور چیک پوسٹیں: جلوسوں کے روٹس پر غیر ضروری آمد و رفت کو روکنے کے لیے کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، جبکہ زائرین کی تلاشی کے لیے خصوصی چیک پوسٹیں قائم ہیں ۔

شام غریباں

جلوسوں کے اختتام کے بعد شام غریباں کا انعقاد کیا جائے گا جس میں ذاکرین واقعہ کربلا کے بعد پیش آنے والے حالات کو بیان کریں گے اور پھر عزادار غم حسین میں سینہ کوبی کے بعد گھروں کو روانہ ہو جائیں گے ۔

وزیراعظم، صدر مملکت، وزیر داخلہ، وزرائے اعلیٰ، آئی جیز نے امن و امان برقرار رکھنے اور جلوس کی کڑی نگرانی کی ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔