weather

یورپ میں جھلسا دینے والی گرمی،سیکڑوں ہلاکتوں کے بعد پابندیاں عائد

یورپ کے مختلف ممالک اس وقت شدید اور غیرمعمولی گرمی کی لہر کی زد میں ہیں جس کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہوکر رہ گئے جس کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں سخت گرمی کے باعث عوامی مقامات پر شراب نوشی پر پابندی لگادی گئی ۔

اسپین میں ہیٹ ویو کے باعث 4 روز میں ہلاکتوں کی تعداد 200 سے زائد ہوگئیں، کئی علاقوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:یورپ کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں ہلاکتیں

فرانس میں بھی ہیٹ ویو سے ہلاکتوں کی تعداد 50 ہوگئی جہاں 80 سال میں پہلی بار درجہ حرارت 44 ڈگری سے اوپر چلاگیا۔ اٹلی میں بھی 24 گھنٹے میں گرمی سے 5 ہلاکتیں ہوئیں۔

ادھر لندن اور ساؤتھ ایسٹ انگلینڈ کیلئے شدید گرمی کی ریڈ وارننگ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق لندن میں درجہ حرارت 30 اور 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہی رہنےکا امکان ہے۔

گرمی کے باعث اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ بڑھنے لگا ہے، رائل کالج آف فزیشنز کا کہنا ہے کہ گرمی اسپتالوں کی مشینوں اور آلات کو بھی خراب کر رہی ہے۔

ادھرفرانس کے دارالحکومت پیرس میں سخت گرمی کے باعث عوامی مقامات پر شراب نوشی پر پابندی لگادی گئی ۔

غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق پیرس پولیس کے سربراہ نے اعلان کیا ہےکہ شدید گرمی کی لہر کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جمعہ کی دوپہر سے عوامی مقامات پر شراب نوشی پر پابندی نافذ کر دی جائےگی۔

یہ بھی پڑھیں:ملک کے کن کن علاقوں میں آندھی اور بارش ہو گی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی

پیرس پولیس کے سربراہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد فرانس اور یورپ کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید گرمی کی لہر کے باعث پیدا ہونے والے صحت کے مسائل کو کم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا تیز دھوپ اور شدید گرمی میں شراب نوشی صحت پر انتہائی خطرناک اور تباہ کن اثرات مرتب کر سکتی ہے۔