وزیراعظم آزاد کشمیر کے ترجمان شوکت جاوید میر نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے پرزور گزارش کی ہے کہ وہ اپنا احتجاج فوری طور پر ختم کریں اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی طرف آئیں۔ اپنے ایک اہم بیان میں انہوں نے دھرنے کے قائدین اور مظاہرین پر زور دیا کہ وہ خطے کے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے مثبت طرزِ عمل اختیار کریں۔
شوکت جاوید میر کا کہنا تھا کہ ریاست ہمیشہ عزت و احترام کی بات کرتی ہے اور شہریوں کے حقوق کی بات کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست نے ہمیشہ اپنے لوگوں کو شفقیت دی ہے اور انہیں تحفظ کا سائبان مہیا کیا ہے، اس لیے ریاست کے ساتھ ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنا کسی بھی صورت خطے اور عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر انجمن تاجران شوکت کھوکھر کا کالعدم ایکشن کمیٹی لاتعلقی کا اعلان
انسانی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش اور اپیل:
ترجمان وزیراعظم نے احتجاج کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“میں سمجھتا ہوں کہ اب تک 22 سے زیادہ قیمتی انسانی جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں، جبکہ پچھلے احتجاج میں بھی 12 سے 14 انسانی جانیں موت کی آغوش میں چلی گئی تھیں۔ میں احتجاجی تحریک کے قائدین سےگزارش کرتا ہوں کہ وہ اب اس احتجاجی تحریک کو فوری طور پر مؤخر کریں اور ریاست کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی کو بالکل چھوڑ دیں۔”
ریاست مخالف پروپیگنڈے اور بھارتی ایجنڈے کی ناکامی:
اپنے بیان کے دوران شوکت جاوید میر نے بیرونی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بھارت نے اس تحریک کے پیچھے پانی کی طرح پیسہ بہایا ہے تاکہ پاکستان، افواجِ پاکستان اور تحریکِ آزادیِ کشمیر کے خلاف زہر اگلا جا سکے اور منظم ہرزہ سرائی کی جا سکے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ دشمن کا یہ ایجنڈا بھی اب مکمل طور پر ناکامی کی طرف جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ریاست مخالف پروپیگنڈا پانی کا ایک بلبلا ہوتا ہے، جو جتنی تیزی سے اوپر جاتا ہے، اتنی ہی تیزی سے واپس پانی میں جا کر تحلیل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے عوام اور قائدین سے اپیل کی کہ وہ حقائق کو سمجھیں اور کسی بھی ملک دشمن ایجنڈے کا حصہ بننے کے بجائے امن کا راستہ اپنائیں۔




