مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آئی جی آزادکشمیر نے بی بی سی اردو کی آزادکشمیر میں خوراک کی ترسیل کے حوالے سے منفی پروپیگنڈے اور کہانی کو جھوٹی اور بے بنیاد، من گھڑت قرار دیدی ۔
یاد رہے کہ برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس نے خوراک، ادویات اور ایندھن لے جانے والے شہریوں کو روکا اور انہیں یہ سامان تلف کرنے کا حکم دیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی مذموم مقاصد بے نقاب، ایکشن کمیٹی انتشار پھیلا رہی ہے، سردارعتیق خان
رپورٹ کی سرخی اور مرکزی الزام مکمل طور پر ایک گمنام ذریعہ نوید کے اکاؤنٹ پر منحصر ہے اس سنگین دعوے کو ثابت کرنے کیلئے کوئی ویڈیو ثبوت، آزاد گواہ، سرکاری ریکارڈ، یا فریق ثالث کی تصدیق فراہم نہیں کی گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سماہنی: علی شان سونی، چوہدری رزاق سمیت،24 امیدوار میدان میں آگئے
رپورٹ خود پولیس اور ضلعی حکام کے بیانات پر مشتمل ہے جس میں اس الزام کو مسترد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ سپلائی کرنے والی گاڑیوں کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

جبکہ رکاوٹیں بنیادی طور پر احتجاج سے متعلقہ سڑکوں کی بندشوں سے منسلک ہیں۔ آزادکشمیر پولیس کی سرکاری پریس ریلیز اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ سڑک کی بلا تعطل رسائی منسلک ہے۔
آزادکشمیر پولیس کی جانب سے کہا گیا تھا کہسوشل میڈیا پر کچھ دیر قبل ایک پوسٹ اپلوڈ ہوئی پائی گئی ہے کہ بروز سوموار 22 جون 2026 سے کو ہالہ روڈ تمام تر ٹریفک کے لئے بند کی جارہی ہے، تمام حضرات غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
متذکرہ پوسٹ رختبر قطعی طور پر غلط ہے۔ کو ہالہ روڈ تمام تر ٹریفک کے لئے اوپن ہے۔ کوہالہ روڈ اور دیگر شاہراؤں سے متعلق معلومات کے لئے درج ذیل لینڈ لائن نمبرز پر رابطہ کریں۔
آزاد کشمیر پولیس عوام الناس کی جان و مال کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے ۔ عوام سے اپیل ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی بے بنیاد خبروں اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔ کسی بھی قسم کی معلومات کے لئے متعلقہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے رابطہ رکھیں۔




