اب دھاندلی نہیں کرنے دونگا،سردار قمر الزمان، شرقی باغ سے کاغذات نامزدگی جمع

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ،سابق وزیر حکومت سردار قمرالزمان نے ایل اے 16 حلقہ شرقی باغ سے سیکڑوں کارکنوں کے ہمراہ کاغذات نامزدگی جمع کروائی دئیے۔

اس موقع پر سردار قمر الزمان نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باغ میں جلد نائٹ جلسہ کرونگا جس میں حلقہ کے ہزاروں کارکنان شرکت کرینگے۔ حلقہ شرقی باغ کی محرومیوں کے ازالے کا وقت آ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:میراکبر کو عزت دی مگر انوارالحق کیساتھ ملکر سازشیں کرتا رہا،سردار تنویر الیاس

انہوں نے کہا کہ حلقہ شرقی کو 15 سالوں سے دعوئوں اور وعدوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ حلقہ شرقی کے عوام نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا مگر یہاں کا سابق ایم ایل اے دھاندلی کا ماسٹر مائنڈ ہے۔اس دفعہ ایسا نہیں ہونے دینگے۔

سردار قمر الزمان نے کہا کہ ہم پورا پہرہ دینگے اور کسی کو دھاندلی کی اجازت نہیں دینگے۔حلقہ شرقی باغ کے مینڈیٹ کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔15 سالہ محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کا سب سے پسماندہ حلقہ حلقہ شرقی ہے۔لوگوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں ان سب کا ذمہ دار ایک ہی شخص ہے جو اقتدار کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے۔ایک بار پھر پارٹی بدل کر اقتدار کا خواب دیکھنے والوں کو اب کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ عوام ان چالوں کو سمجھ چکی ہے۔اب وہ کسی جھانسے میں نہیں آئیں گے۔عوام ہمارے ساتھ ہیں۔الیکشن میں بھر پور کامیابی حاصل کر کے عوامی محرومیوں کا ازالہ کرینگے۔

یاد رہے کہ حلقہ شرقی باغ میں سردار قمرالزمان کا مقابلہ سردار میر اکبر خان کیساتھ ہوتا ہے اور مسلسل 3الیکشن سردار میر اکبر خان ہی جیتتے رہے ہیں لیکن تینوں الیکشن انہوں نے الگ پارٹی کے پلیٹ فارم سےلڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سردار قمرالزمان اور راجہ یاسین ون ٹو ون ملاقات نے سیاسی ہلچل مچادی

2011میں سردار میر اکبر مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر ممبر اسمبلی منتخب ہوئے،2016میں عین الیکشن کے موقع پرانہوں نے مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیارکی اور کامیابی سمیٹی۔

2021کے الیکشن میں بھی عین الیکشن کے دنوں میں مسلم لیگ(ن) کا ٹکٹ واپس کرکے وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوئےاور کامیاب ہوئے تھے جبکہ حلقہ میں کچھ پولنگ سٹیشن پر بیلٹ پیپرز بھی جلائے گئے تھے جس پر کچھ پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ ہوئی تھی اور سردار میر اکبر چند سو ووٹوں سے جیتے تھے جسے سردارمیر اکبر نے دھاندلی قرار دیا تھا اور الیکشن کمیشن وعدالت میں بھی دھاندلی کا کیس چلتا رہا۔