عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹس میں ایک دن کے مختصر وقفے کے بعد سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بہت بڑی اور نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ صرافہ بازار میں ہونے والی اس اچانک اور بڑی گراوٹ کے باعث سونے کے خریداروں اور عوام کو ایک بڑا ریلیف ملا ہے۔
آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ اعداد و شمار کے مطابق مقامی صرافہ مارکیٹ میں 24 کیرٹ فی تولہ سونے کی قیمت میں 10 ہزار 400 روپے کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا سستا ہو کر 4 لاکھ 32 ہزار 236 روپے کی سطح پر آ گیا ہے۔ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 9 ہزار 360 روپے کی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے اور اس بڑی کمی کے بعد دس گرام سونا کم ہو کر 3 لاکھ 68 ہزار 985 روپے کا ہو گیا ہے۔
چاندی کی قیمتوں میں کمی اور انٹرنیشنل مارکیٹ کی صورتحال:
مقامی صرافہ بازار میں سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 487 روپے کم ہو گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 6 ہزار 664 روپے مقرر کی گئی ہے۔ قیمتوں میں ہونے والی یہ بڑی کٹوتی مقامی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
دوسری جانب اگر انٹرنیشنل مارکیٹ (عالمی بازار) کی صورتحال پر نظر دوڑائی جائے تو وہاں بھی سونے کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونا 104 ڈالر سستا ہو گیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت کم ہو کر 4 ہزار 98 ڈالر کی سطح پر آ گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی اسی بڑی مچھر اور گراوٹ کے اثرات مقامی صرافہ بازاروں پر بھی منتقل ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی سونا اور چاندی یکمشت سستے ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمتوں کی پھر اونچی اڑان: فی تولہ سونا 4 ہزار 643 روپے تک پہنچ گیا
امریکی سونے کے فیوچرز اور ڈالر کی صورتحال:
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگست کی ترسیل کے لیے امریکی سونے کے فیوچرز بھی 1 فیصد کی کمی کے بعد 4,160.20 ڈالر پر آ گئے ہیں۔ ماہرین کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ امریکی ڈالر اس وقت گزشتہ ایک سال کی بلند ترین سطح کے بالکل قریب برقرار ہے۔ ڈالر کی اس مضبوطی کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے سونا خریدنا مزید مہنگا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر سونے کی طلب میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سونا اس سے قبل تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی سے جزوی طور پر سہارا حاصل کر رہا تھا، تاہم اب ڈالر کی مضبوطی اور شرحِ سود میں اضافے کی توقعات اس پر مسلسل دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ اسی وجہ سے اب تمام سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کی آئندہ آنے والی مالیاتی پالیسی اور مہنگائی کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی سیاسی صورتحال اور ایران امریکا مذاکرات:
عالمی سیاسی صورتحال میں بھی جزوی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں جہاں امریکا نے ایران پر عائد بعض پابندیاں 60 دن کے لیے نرم کر دی ہیں اور اس کا اعلان حالیہ ایران امریکا ابتدائی مذاکرات کے بعد کیا گیا۔ اس کے علاوہ لبنان میں جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں کمی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات نے ممکنہ امن معاہدے کی بنیاد رکھی ہے، تاہم ایران نے اس مؤقف کی تردید کی ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر کوئی باضابطہ مذاکرات شروع کیے ہیں۔
دوسری جانب شکاگو فیڈ کے صدر آسٹن گولزبی نے کہا ہے کہ لیبر مارکیٹ مستحکم ہے اور فیڈ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا مہنگائی بلند سطح پر برقرار رہے گی یا وقت کے ساتھ کم ہو جائے گی۔ مارکیٹ میں اب 88 فیصد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دسمبر میں شرحِ سود میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو گزشتہ ہفتے 61 فیصد تھا، جبکہ سرمایہ کار اس وقت امریکی افراطِ زر کے اہم اشاریے “پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر (PCE)” کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جو آئندہ مالی پالیسی کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
مزید پڑھیں: ’خود مختار خاتون‘ : خواتین کے لیے فنانسنگ پروگرام متعارف، گھر بیٹھے مالی سہولت کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟
چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتیں:
سونے کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میں دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق چاندی کی قیمت میں 3.3 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ پلاٹینم کی قیمت 1.9 فیصد تک نیچے آ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی 1.8 فیصد تک کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور مالی پالیسیوں کے اثرات قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔




