مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974ء کی لازما تعمیلی متقضیات کی روشنی میں آزاد جموں و کشمیر الیکشنز ایکٹ 2020ء کی دفعہ 106 ذیلی دفعہ (2) کے تحت الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر پر لازم ہے کہ آزاد کشمیر میں جملہ انتخابات بشمول آمدہ عام انتخابات 2026 ، ہر لحاظ سے آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنیادوں پر منعقد کروائے جائیں۔
چنانچہ آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کے لئے انتخابات میں شریک جملہ رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں ، امیدواروں، انتخابی ایجنٹس اور پولنگ ایجنٹس کے لئے باضابطہ ضابطہ اخلاق جاری کرنا بھی لازم ہے ۔
قانون متذکرہ بالا کی دفعہ 106 و دیگر قانونی تقاضوں کے تحت حاصل شدہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے آمده عام انتخابات 2026 ء کے انعقاد کے سلسلہ میں سیاسی جماعتوں، انتخابی امیدواران اور انتخابی ایجنٹس اور پولنگ ایجنٹس کیلئےبذیل مندرجات پر مبنی ضابطہ اخلاق بدیں تاکید جاری کیا ہے کہ عام انتخابات 2026ء میں شریک جملہ سیاسی جماعتیں، انتخابی امیدواران ، الیکشن ایجنٹس اور پولنگ ایجنٹس انتخابات کے عمل میں شریک ہونے پر درج ذیل واضح اور غیر مبہم ضوابط اخلاق پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل پیرا ہوں گے۔
ضابطہ نمبرا
عمومی رویہ
1: جملہ رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں ، انتخابی امیدواران اور الیکشن ایجنٹ ھا، آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974ء اور منجملہ انتخابی قوانین میں دیئے گئے عوام کے حقوق اور ان کی آزادی کو ہمہ وقت سر بلند رکھیں گے۔
2: سیاسی جماعتیں ، امیدواران اور الیکشن ایجنٹ ھا کسی ایسی رائے ، خیالات کا اظہار اور نہ ہی کوئی ایسا عمل کریں گے جو کسی بھی انداز میں ریاست جموں و کشمیر کی مسلمہ حیثیت ، سالمیت اور سلامتی یا اخلاقیات یا امن عامہ کے خلاف ہو یا جس سے آزاد کشمیر و پاکستان کی عدلیہ کی آزادی یا خود مختاری متاثر ہو یا جس سے عدلیہ یا افواج پاکستان کی شہرت کو نقصان ہو یا اس سے ان کی تضحیک کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔
3
3 : سیاسی جماعتیں ، امیدواران اور الیکشن ایجنٹ ہا انتخابات کے موثر انعقاد ، اخلاقیات اور امن عامہ کو برقرار رکھنے کیلئے الیکشن کمیشن کی طرف سے وقتا فوقتا جاری کردہ تمام احکامات ، ہدایات اور ضابطہ اخلاق کی کما حقہ پیروی کریں گے ۔
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن یا اس کے فاضل چیئر مین واراکین کی کسی بھی شکل میں تضحیک کرنے سے اجتناب کریں گے ۔ جیسا کہ ایسے افعال آزاد جموں و کشمیر الیکشنز ایکٹ 2020 کی دفعہ 10 میں واضح طور پر توہین عدالت کی کارروائی پر نتیج ہونا قرار پائے ہیں۔
4: سیاسی جماعتیں انتخابی امیدواران ، الیکشن ایجنٹ ھا اور ان کے حمایتی کسی بھی شخص کو الیکشن میں بطور امیدوار حصہ لینے یا نہ لینے اور انتخابات سے بطور امیدوار دستبردار یا ریٹائر ہونے یا دستبردار یار بیٹائر نہ ہونے کی ترغیب دینے کے لئے تحائف، لالچ اور رشوت دینے سے گریز کریں گے ۔ اس ضابطہ کی خلاف ورزی انتخابی بدعنوانی تصور کی جائے گی۔
5: سیاسی جماعتیں ، انتخابی امیدواران ، الیکشن ایجنٹ تھا اور ان کے جملہ حمایتی افراد پولنگ کے مقررہ دن انتخابی مواد ، انتخابی عملے اور پولنگ ایجنٹس کے تحفظ کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے پابند ہونگے اور خلاف ورزی کی صورت میں مرتکب افراد کے خلاف تحت قانون مواخذہ کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔
6: سیاسی جماعتیں مردوں اور عورتوں پر مشتمل اپنے اہل کارکنان کو انتخابی عمل میں شرکت کیلئے مساوی مواقع فرا فراہم کرنے کی حتی الواسع کوشش کریں گی۔
7: سیاسی جماعتیں انتخابی امیدواران ، الیکشن ایجنٹ حا اور ان کے حمایتی یا دیگر افراد کسی بھی ایسے رسمی یا غیر رسمی معاہدے، انتظام یا مفاہمت کے عمل میں شامل نہ ہوں گی جس کا مقصد مرد، خواتین اور خواجہ سراؤں کو انتخابی عمل میں بطور امیدوار حصہ لینے یا اپنے ووٹ کے حق کو استعمال کرنے سے محروم کرنا ہو ۔ سیاسی جماعتیں انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کریں گی۔
8: انتخابی امیدواران اور الیکشن ایجنٹ ھا اپنے کارکنوں اور ہمدردوں کو کسی بھی بیلٹ پیپر یا بیلٹ پیپر پر موجود سرکاری نشان کو مسخ کرنے سے باز رہیں گے۔ اس کی خلاف ورزی انتخابی بد عنوانی تصور کی جائے گی۔
9: انتخابی امیدوار الیکشن ایجنٹ ہا اور ان کے حمایتی کسی انتخابی امیدوار کے انتخاب کو موثر بنانے یا اس میں رکاورٹ ڈالنے کیلئے آزادکشمیر کے کسی ضلع کی ملازمت میں یا نیم سرکاری ادارےیا محکمہکے دفتر میں ملازم کسی بھی شخص کی حمایت یا مدد حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اس کی خلاف ورزی غیر قانونی فعل تصور کی جائے گی۔
(:10: انتخابی امیدار ان کے حمایتی انتخابی مہم کے دوران یا پولنگ کے دن تشددکیلئے ترغیب دینے یا تشدد کو کسی صورت میں روا رکھنے سےسختی سے اجتناب کرینگے ،تشدد اور ڈرانے دھمکانے کی کھلم کھلا مذمت کریں گے اور ایسی زبان استعمال نہیں کریں گے جو تشدد کی طرف مائل کرے یا تشدد کرنے کی ترغیب دے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی حال میں کسیدوسرے کو گزند پہنچائے گا اور نہ ہی کسی ملکیت کو کوئی نقصان پہنچائے گا۔
11: انتخابی اخراجات کی حد مطابق قانون (50) پچاس لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ تمام امیدواران اس حد کے اندر اخراجات کرنے کے پابند ہوں گے۔
12: ایسے تمام اخراجات جو کسی بھی شخص یا سیاسی جماعت نے امیدوار کی جانب سے کئے ہوں یا سیاسی جماعت نے ناص طور پر امیدوار کے لئے کئے ہوں اس امیدوار کے انتخابی اخراجات میں شامل ہوں گے ۔
اگر کوئی شخص یا جماعت کسی امیدوارکیلئے سٹیشنری ، ڈاک، ٹیلی گرام تشہیر نقل حمل کے ذرائع اور کسی بھی قسم کی دوسری چیز پر اخراجات کرتا ہے تو بھی یہ سمجھا جائے گا کہ یہ انتخابی اخراجات امیدوار نے بذات خود کئے ہوں ۔
13: امیدوار یا اس کا الیکشن ایجنٹ عام انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد 135 ایام کے اندر انتخابی اخراجات کی تفصیل جمع کروائے گا۔
انتخابی مہم
14: سیاسی جماعتیں ، امیدواران اور الیکشن ایجنٹ ھا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بشمول اخبارات کے دفتر اور پر نٹنگ پریس پر نا جائز دباؤ ڈالنے اور میڈیا کے خلاف ہر قسم کے تشدد سے اپنے کارکنوں کو سختی سے روکیں گے۔
15: عوامی جلسوں اور جلوسوں میں اور پولنگ والے دن کسی بھی قسم کے ہتھیار اور آتشین اسلحہ کو لے جانے یا ان کی نمائش کرنے پر مکمل طور پر پابندی ہوگی۔ یہ پابندی ریٹرنگ افسر کی طرف سے حتمی نتائج مرتب کرنے کے 24 گھنٹے بعد تک برقرار رہے گی اور اس سلسلے میں تمام سرکاری قواعد کی سختی سے پابندی کی جائے گی ۔ اس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی غیر قانونی فعل تصور ہوگی ۔
واضح رہے کہ یہ شرط سیاسی جماعتوں کے قائدین یا امیدواروں کی حفاظت پر مامور افراد پر لاگو نہ ہوگی تاہم ایسے افراد کے پاس اسلحہ لے جانے کا موثر لائسنس اور متعلقہ حکام سے جاری کردہ اجازت نامہ موجود ہوگا۔
16: کسی بھی شخص کی طرف سے عوامی اجتماعات اور پولنگ اسٹیشنوں پر یا ان کے نزدیک کسی بھی قسم کی فائرنگ بشمول ت ہوائی فائرنگ ، پٹاخوں یا دیگر آتش گیر مواد کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی ۔ اس ضابطہ کی خلاف ورزی یات کو غیر قانونی فعل کے ارتکاب کے مترادف تصور ہو گی ۔
17: پولنگ بند ہونے کے بعد رات 12 بجے سے 48 گھنٹے قبل کے عرصہ میں کسی بھی حلقہ میں جلسہ منعقد کرنے یا اس میں شرکت کرنے یا جلوس نکالنے یا جلوس میں شرکت کرنے پر مکمل پابندی ہوگی ۔ اور اسی طرح انتخابی مہم ہر لحاظ سے مذکورہ وقت سے پہلے ختم ہو جائے گی۔ اس کی خلاف ورزی غیر قانونی فعل تصور کی جائے گی۔
18: سیاسی جماعتیں جماعت کے اندر ، اپنے امیدواروں ، ملازموں اور اپنے حمایتیوں کے اندر نظم و ضبط پیدا کرنے کے لئے موثر اقدامات اٹھائیں گی اور انہیں اس ضابطہ اخلاق ، قوانین اور قواعد کی پیروی کرنے اور انتخابی بے قاعد گیوں سے اجتناب کی ہدایت کریں گی ۔
عام انتخابات کے دوران تشہیر کیلئے قانونی تقاضوں کی لازما تعمیل
21ـ: آمد و عام انتخابات 2026 ء کے لئے قانونی تقاضوں کے مطابق کوئی بھی امیدوار بشمول وزیر اعظم و پیکر از پلی سپیکر قانون ساز اسمبلی سرکاری وسائل استعمال میں نہیں لائے گا۔ اگر کسی امیدوار نے انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل کا استعمال کیا تو آزاد جموں وکشمیر الیکشن کمیشن ایسے امیدوار کو انتخابات میں شرکت سے ہی نا اہل قرار دے سکے گا۔ نیز سرکاری گاڑیوں کے الیکشن مہم کے لئے استعمال کی صورت میں ان کو ضبط کر لیا جائے گا اور سرکاری وسائل استعمال کرنے والے افسران کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے زیر مواخذ و لایا جائے گا ۔ اسی طرح وزیر اعظم / وزراء مشیران حکومت و خصوصی معاونین وغیرہ الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد سرکاری گاڑی یا جھنڈا استعمال کرتے ہوئے الیکشن مہم میں حصہ نہیں لے سکیں گے ۔ اس شرط کا اطلاق حکومت پاکستان کے سرکاری عہدیداران بشمول وزیر اعظم وزراء مشیران اور معاونین خصوصی پر بھی ہوگا۔
20: کسی بھی امیدوار کو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہ ہوگی اور ایسا عمل ان کی نااہلی پر فتح ہوگا۔
21: انتخابی مہم پولنگ والے دن سے 48 گھنٹے قبل مکمل طور پر بند اور موقوف کر دی جائے گی۔ اور ان 48 گھنٹوں کے دوران کسی بھی قسم کے جلسے جلوس اور کنوینسنگ کی اجازت نہ ہوگی۔
22: الیکشن کمیشن کے منظور شدہ سائز سے بڑے پوسٹر ، ہینڈ بل پمفلٹس لیفلیٹس ، بینرز پر پابندی عائد ہوگی ۔ کوئی بھی بیر بہ تو آویزاں کرے گا اور نہ ہی تقسیم کرے گا۔ نیز کوئی بھی چسپاں ہونے والا پوسٹر ، ہینڈ بل پمفلیٹس یا ریفلیٹ کا پبلک بلڈنگ پر لگانا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ پوسٹر وغیرہ پینا فلیکس میٹریل سے تیار کئے جاسکتے ہیں مگر ان کا سائز کسی بھی صورت میں ذیل میں دیئے گئے سائز سے بڑا نہ ہو۔
پوسٹر18 انج 23 انج،بینڈ باز/ پمفلس فلیس،6 انچ سے 9 انچ تک ہوگا، پورٹریٹس،2 فٹ 3 فٹ سے زیادہ نہ ہو۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مرتضیٰ گیلانی پی ٹی آئی عہدیدار کو ن لیگی ٹکٹ ملنے پر برہم،قائدین سے نوٹس لینے کا مطالبہ
23: قرآنی آیات و احادیث اور دیگر مذاہب کے متلامس محلوں کی کالا الیکشن ایوانوں سے توقع کی ہوتی ہے کہ وہ دورہ پر نظریه ی مواد پر اپنی عبور است او پر ان کروانے سے گرنے کی می کو پرانے کریں گے اور اپنے کارکنان میں بھی مذکورہ اور مطلوب احترام و تعظیم توضیح معنوں میں باقی اور کھلنے کی نا تو سم و ضبط کی پاسداری و حقیقی بنا میں
24: سیاسی جماعتیں ، امید داران ، انیشی ایجاب خاندان کے سابقہ کسی بھی صورت میں دیواروں اور عمارتوں پر پوسٹرز جہاں نہیں
25: ہورڈنگز، بل بورڈز ، دیواروں پر لکھائی اور پینا فلیکس کے بڑے بڑے بیٹرز پر مکمل طور پر پابندی ہوگی۔ اس کی خلاف ورزی غیر قانونی فعل تصور کی جائے گی ۔ تاہم پوسز وغیر و لہ با نمبر 22 میں دیئے گئے سائز کے مطابق پینا فلیکس میٹریل سے تیار کرنے پر پابندی کا اطلاق نہ ہوگا۔
26: کسی سیاسی جماعت / امید اور انتخابی ایجنٹ کی طرف سے کسی بھی صورت میں سرکاری ملازم کی تصویر تشہیری مواد پر پرنٹ نہیں کروائی جائے گی۔
27: ایک سیاسی جماعت کی طرف سے لگائے گئے پوسٹرز ، پورٹریٹس اور بیٹرز کسی دوسری جماعت کے کارکن نہ ہٹائیں گے اور نہ ہی کسی دوسری سیاسی جماعت کے کارکنوں کو بینڈ بل اور کتا بچے تقسیم کرنے سے روکیں گے۔ اس کی خلاف ورزی غیر قانونی فعل تصور کی جائے گی۔
28: کوئی بھی شخص یا سیاسی جماعت یا کوئی انتخابی امیدواراد اس کے حمایتی کی سرکاری عمارت یا املاک پر اپنی جماعت کا جھنڈا نہیں لگائیں لہرائیں گے ۔
29: کوئی سیاسی جماعت یا امیدوار اپنے کسی حمایتی کو کی بھی زمین ، عمارت یا چار دیواری پر مالک کی اجازت کے بغیر جھنڈے لگانے، نونس چسپاں کرنے وغیرہ کی اجازت نہیں دیں گے۔
30: حکومت کے افسران اور حکومت کے منتخب نمائندے کسی بھی حلقے میں ، جہاں الیکشن ہورہا ہے، کسی خاص امیدوار یا سیاسی جماعت کے ناجائز فائدے کے لئے ریاستی وسائل استعمال کریں گے اور نہ ہی الیکشن میں حصہ لینے والے کسی خاص امید اریا سیاسی جماعت کے مفاد کو یہ شر کرنے کے لئے نا جائز دباؤ ڈالیں گے۔
جلسه، جلوس و غیره
31: عام انتخابات 2026 ء کے حوالہ سے بڑے عوامی اجتماعات اور جلسے جلوس کے لئے ہر امیدوار متعلقہ ضلعی ڈپٹی کمشنر کی اجازت سے وقت اور جگہ کے تعین کے بعد جملہ نافذ العمل احتیاطی لوازمات اپناتے ہوئے ایک جلسہ منعقد کر سکے گا جس میں لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔
32: گاڑیوں پر لاؤڈ سپیکر نصب کر کے کسی بھی امیدوار کو اپنے حق میں انتخابی مہم کی تشہیر/ اعلان نعرہ بازی کروانے پر مکمل پابندی ہو گی نیز گاڑیوں ، کار اور موٹر سائیکل ریلیز پر بھی پابندی ہوگی ۔ تاہم مختص جگہوں پر پہلے سے طے شدہ کارنر میٹنگ کرنے کی اجازت ہو گی جو کہ مخصوص احاطہ کے اندر رہتے ہوئے کی جائیں گی۔ اور اس میں تعداد کسی بھی صورت 500 نفوس سے زائد نہ ہو۔ ان نشستوں میں وقت اور جگہ کے تعین کے لئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے پیشگی اجازت لینی ضروری ہوگی ۔ ان کارنر میٹنگز کے بارہ میں متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور امیدوار اپنے کارکنان کے ذریعہ عوام الناس کو مطلع کریں گے۔ اس کے لئے کسی قسم کے اعلانات بذریعہ لاؤڈ سپیکر گاڑی پر کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس سلسلہ میں تمام امیدواروں کو کسی قسم کی تخصیص یا امتیاز کے بغیر یکساں مواقع مہیا کئے گئے ہیں۔
33ـ: سیاسی جماعتیں اور امیدواران ایسی جگہ یا جگہوں پر عوامی کارنر میٹنگز منعقد کریں گے اور ایسا راستہ اختیار کریں گے جو اس مقصد کے لئے مختص کیا جا چکا ہو۔ ایسی جگہیں اور راستے ہر شہر اور قصبہ میں ضلعی اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے متعلقہ سے امیدواران یا ان کے مجاز نمائندگان کے ساتھ باہمی مشاورت سے پہلے سے ہی طے کئے جائیں گی اور ان کی تفصیل عوام الناس کی اطلاع کے لئے مشتہر کی جائے گی۔
34: سیاسی جماعت یا امیدوار یا الیکشن ایجنٹ کارنر میٹنگز منظم کرتے ہوئے میٹنگ کے انعقاد کی جگہ کے ساتھ ساتھ اس کے دورانیہ کا تعین بر وقت کر کے اس کی اطلاع ضلعی انتظامیہ یا حکام کودیں گے اور اس پروگرام کی کسی صورت خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔
(35) سیاسی جماعتوں کے منتظمین اور ضلعی انتظامیہ باہمی مشاورت سے ایسے پیشگی اقدامات کریں گے جن سے میٹنگ کے دوران کوئی رکاوٹ حائل ہو اور نہ ہی ٹریفک میں خلل واقع ہو اور نہ ہی اس کی روانی متاثر ہوتا کہ عوام الناس کو کسی قسم کی دقت نہ ہو۔
36: اگر دو یادو سے زیادہ سیاسی جماعتیں یا امیدواران ایک ہی راستہ یا اس کے کچھ حصوں سے ایک ہی وقت میں میٹنگ کے لئے گزرنا چاہتے ہوں تو منتظمین پیشگی ایک دوسرے سے رابطہ کریں گے اور ایسے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کریں گے کہ جس سے میٹنگ میں تصادم نہ ہو اور ٹریفک کی روانی میں خلل پیدا نہ ہو۔ اس حوالہ سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور مقامی پولیس کی مدد سے مناسب اقدامات کئے جائیں گے۔
37: دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں یا کارکنان سے منسوب کردہ پتلوں کے استعمال یا ان پتلوں ، پوسٹرز اور دوسری جماعتوں کے جھنڈوں کو جلانے کی ہر گز اجازت نہ ہوگی جس سے میٹنگ کے شرکا ء اشتعال میں آئیں ۔
38: میٹنگز اس طریقے سے منظم کی جائیں گی کہ کسی بھی راستے کے استعمال میں خلل پیدا نہ ہو ۔ اس ضمن میں ڈیوٹی پر تعینات پولیس کے احکامات اور ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔
39: سیاسی جماعتیں یا امیدواران یا الیکشن ایجنٹ حا اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ میٹنگ کے شرکاء کے پاس ایسے آلات نہ ہوں جنہیں ناپسندیدہ عناصر مشتعل ہجوم کی صورت میں غلط یا ضرررسانی کے لئے استعمال کر سکیں گے۔
40: سیاسی جماعتین یا امیدواران اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ میٹنگ میں خلل ڈالنے یا اس میں کسی بھی قسم کی کوئی بد نظمی پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے افراد اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہوں ۔ تاہم ایسی صورت میں منتظمین ایسے افراد کے خلاف بذات خود کوئی کارروائی نہیں کریں گے بلکہ اس ضمن میں ڈیوٹی پر موجود پولیس سے مدد طلب کریں گے۔
41: سیاسی جماعتیں اور امیدواران اپنی عوامی میٹنگز سے متعلق پروگرام سے مقامی انتظامیہ کو کم از کم تین دن پیشتر آگاہ کریں گے ضلعی مقام انتظامیہ مناسب حفاظتی انتظامات کرنے کی ذمہ دار ہوگی اور ایسی عوامی میٹنگز کو اس انداز سے منظم کرے ۔ گی کہ ایسی عوامی میٹنگز کے انعقاد میں دلچسپی رکھنے والوں کو مساوی مواقع میسر آسکیں ۔
42: الیکشن شیڈول کے جاری ہونے سے لے کر پولنگ کے دن تک سیاسی جماعتیں ، امید داران اور ان کے حمایتی، حکومت کے عہدیداران اور منتخب نمائندے، مجموعی طور پر اپنے کسی ترقیاتی منصوبے یا کام کا اعلانیہ یا خفیہ اعلان نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کا افتتاح کریں گے اور نہ ہی کوئی ایسا عمل کریں گے جو کسی سیاسی جماعت یا خاص امیدوار کے حق میں یا اس کی مخالفت میں انتخابات پر اثر انداز ہو سکے ۔ اور نہ ہی اپنے متعلقہ حلقہ میں کسی بھی ادارے کو کوئی چندہ یا عطیہ دیں گے نہ کی چندہ یا عطیہ دینے کا وعدہ کریں گے ۔ البتہ الیکشن شیڈول کے جاری ہونے سے پہلے سے جاری یا منظور شد و انفرادی منصوبے جاری رہیں
43: انتخابی امیدواران ، الیکشن ایجنٹ ھا اور ان کے حمایتی ایسی تقریروں سے اجتناب کریں گے جو علاقائی اور فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دیں اور صنفی، فرقہ بندی ، گروہ بندی اور لسانی بنیاد پر تنازعات کا باعث ہو۔
44: سیاسی جماعتیں انتخابی امیدواران ، الیکشن ایجنٹ ھا اور ان کے حمایتی انتخابی عمل میں حصہ لینے والے کسی بھی شخص کے خلاف صنفی قومیتی ، مذہبی اور ذات کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی کوئی تشہیر نہیں کریں گے۔
45: دیگر سیاسی جماعتوں اور مخالف امیدواروں پر تنقید کو صرف ان کی پالیسیوں اور پروگراموں اور اسی حوالہ سے ماضی کے ریکارڈ اور ان کے کام تک ہی محدود رکھا جائے گا۔ سیاسی جماعتیں اور امیدواران دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں یا کارکنوں کی بھی زندگی کے کسی ایسے پہلو پر تنقید کرنے سے اجتناب کریں گے جس کا عوامی سرگرمیوں سے اور پولیٹیکل زندگی اور کردارے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسی تنقید سے پر ہیز کیا جائے گا جس کی بنیاد غیر مصدقہ الزامات یا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے پر ہو۔
46: سیاسی جماعتیں امیدواران ، الیکشن ایجنٹ ھا اور ان کے حمایتی غلط اور بد نیتی پر مبنی معلومات دانستہ طور پر پھیلانے سے گریز کریں گے اور دوسری سیاسی جماعتوں / رہنماؤں کی شہرت خراب کرنے کے لئے جعلسازی یا غلط اطلاعات کی اشاعت میں حصہ لینے سے اجتناب کریں گے۔ رہنماؤں اور امیدواروں کے خلاف غیر شائستہ زبان کے استعمال سے ہر قیمت پر اجتناب کیا جائے گا۔
47: قطع نظر اس کے کہ کوئی شخص کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کی سیاسی رائے یا سر گرمیوں کا مخالف ہو ۔ سیاسی جماعتیں اور امیدواران اس شخص کے پر امن اور پر سکون نبھی زندگی گزارنے کے حق کا احترام کریں گے ۔ ایسے شخص کے گھر کے سامنے اس کے سیاسی نقطہ نظر یا سرگرمیوں کے خلاف احتجاج کرنے یا دھرنا دینے کی کسی بھی حالت میں اجازت نہیں ہو گی۔




