آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد پارٹی کے اندر بغاوت اور اختلافات کی ایک بہت بڑی لہر اٹھ کھڑی ہوئی ہے جس نے قیادت کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ ٹکٹوں کی بانٹ میں نظر انداز کیے جانے والے ن لیگ کے درجنوں دیرینہ وفادار رہنماؤں اور امیدواروں نے قیادت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم ترین مشاورت کا عمل انتہائی تیز کر دیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت پر یہ سنگین الزام بھی سامنے آیا ہے کہ انہوں نے پارٹی کے مخلص اور پرانے رہنماؤں کو پیچھے دھکیل کر ان افراد کو بھی انتخابی ٹکٹ جاری کر دیے ہیں جنہوں نے ماضی میں قرآن پاک پر باقاعدہ وفاداری کا حلف اٹھا کر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کی تھی۔ پارٹی کے اس اقدام نے دیرینہ کارکنوں اور ٹکٹ کے مضبوط دعویداروں میں شدید مایوسی اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے جس کے بعد مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں دھڑے بندی واضح ہو گئی ہے۔
پارٹی سے علیحدگی اور انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے پر غور:
ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر بھر سے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ایسے تمام اہم امیدوار، جنہیں پارٹی کی جانب سے اس بار انتخابی ٹکٹ جاری نہیں کیے گئے، وہ اب ن لیگ سے باقاعدہ علیحدگی اختیار کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ یہ تمام رہنما آئندہ عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے انتخابی دنگل میں حصہ لینے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس سلسلے میں مختلف انتخابی حلقوں کے ناراض امیدواروں اور رہنماؤں کے درمیان آپسی رابطوں اور بیٹھکوں کا سلسلہ بھی تیزی سے بڑھ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ن لیگ ٹکٹ تنازع: “وعدہ مجھ سے، ٹکٹ مشتاق منہاس کو؟”راجہ یاسین میدان میں آگئے
سیاسی لائحہ عمل کے لیے دو بڑے آپشنز اور انوکھی حکمت عملی:
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ ناراض امیدوار باہمی مشاورت کا یہ عمل مکمل کرنے کے بعد بہت جلد اپنے آئندہ کے مشترکہ سیاسی لائحہ عمل اور حتمی فیصلے کا باقاعدہ اعلان کر دیں گے۔ اس وقت ان رہنماؤں کے درمیان دو اہم ترین آپشنز زیرِ غور ہیں؛ یا تو یہ تمام ناراض رہنما یکمشت استحکام پاکستان پارٹی (IPP) میں شمولیت اختیار کر کے اس کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیں گے، یا پھر آزاد امیدواروں کے طور پر میدان میں اتریں گے۔ اس گروپ نے یہ انوکھی حکمت عملی بھی تیار کی ہے کہ اگر آزاد حیثیت میں لڑ کر انہیں انتخابات میں کامیابی ملتی ہے، تو پھر وہ اس وقت جو بھی پارٹی اقتدار میں آئے گی، اس میں شامل ہو جائیں گے۔
نظر انداز کیے جانے والے متبادل رہنماؤں کی طویل فہرست:
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نظر انداز کیے جانے والے اور اس ناراض گروپ میں شامل رہنماؤں میں کھاورڑہ سے راجہ عبد القیوم، مظفر آباد سے مرتضیٰ گیلانی، ڈوڈیال سے راجہ شعیب عابد، چکسواری سے کرنل معروف اور کھڑی سے راجہ ظفر شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کھوئی رٹہ سے راجہ شاداب، کوٹلی سے ملک نواز، چڑھوئی سے نعیم منصف، داد سہنسہ سے راجہ افتخار اور کوٹلی شہر سے ملک یوسف بھی اس صف میں کھڑے ہیں۔ اسی طرح حلقہ شرقی سے اعجاز کھٹانہ، وسطی باغ سے راجہ یاسین اور بریگیڈئیر محمد خان بھی اس گروپ کا حصہ بن چکے ہیں، جبکہ دیوان علی چغتائی، نکیال سے آصف کیلوی اور حویلی کہوٹہ سے خواجہ سعید بھی اسی ناراض دھڑے میں شامل ہیں۔
راجہ یاسین کا ویڈیو پیغام اور مرتضیٰ گیلانی کی پریس کانفرنس:
پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے اس شدید تصادم کے نتیجے میں گزشتہ روز نامور سیاسی شخصیت اور حلقہ وسطی سے ن لیگ کے رہنما راجہ یاسین ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنا سخت ترین بیانیہ اور احتجاجی بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں۔ دوسری جانب، مظفر آباد سے تعلق رکھنے والے اہم رہنما مرتضیٰ گیلانی آج ایک ہنگامی پریس کانفرنس کا انعقاد کر کے اپنے تمام تر تحفظات، شکایات اور پارٹی رویے کے بارے میں میڈیا کو باقاعدہ طور پر آگاہ کریں گے جس سے ن لیگ کا اندرونی بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔
سیاسی مبصرین کا تجزیہ: ٹکٹ ہولڈرز کو سخت ٹف ٹائم کا سامنا:
سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ان تمام ناراض اور مخلص رہنماؤں کے امکانی فیصلے آئندہ عام انتخابات میں آزاد کشمیر کے بعض مخصوص حلقوں کے سیاسی منظرنامے پر انتہائی نمایاں اور دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان مضبوط دھڑوں کی علیحدگی کے بعد اب مسلم لیگ (ن) کے آفیشل ٹکٹ ہولڈرز کو الیکشن کے میدان میں اپنی ہی پارٹی کے پرانے ساتھیوں کی طرف سے شدید اور انتہائی ٹف ٹائم ملنے کا قوی امکان ہے، جو ن لیگ کی مجموعی انتخابی کامیابی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔




