سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک)ہندوتوا کی علمبردار مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادی، رواداری اور ہم آہنگی کے کیخلاف روزانہ کی بنیاد پر جبر کی نئی داستان رقم کر رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس رمضان مقبوضہ جموں کشمیر کے پُرفضا علاقے گلمرگ نے برف کی سفید چادر اوڑھ رکھی ہے۔مسلمانوں کیلئےمقدس ترین ماہ کی حیثیت رکھنے والے ماہ رمضان میں گلمرگ کے علاقے میں ایک میگزین کی جانب سے فیشن شو کا انعقاد کیا گیا۔
مودی سرکار نے یہ جانتے بوجھتے کہ مقبوضہ کشمیر کے غیور مسلمانوں کو دلوں کو اس سے کتنی ٹھیس پہنچے گی۔ فیش شو میں مادر پدر آزادی کا مظاہرہ کرنے کی کھلی چھٹی دی گئی۔
اس فیشن شو میں خواتین نے نہایت مختصر لباس زیب تن کیے اور برف پر واک کی۔ ان نازیبا لباس کی تصاویر بھی وائرل کی گئیں۔
مودی کا سرکار کا اس فیشن شو کی اجازت دینا مسلم اقدار اور مذہبی جذبات کی جان بوجھ کر بے توقیری کی عکاسی کرتا ہے۔جس پر مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں مسلم ارکان نے شدید احتجاج کیا اور اس فیشن شو کی اجازت دینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
مقامی مسلم رہنماؤں اور عوام نے بھی احترامِ رمضان کو ملحوظ خاطر میں لانے اور فیشن شو کے انعقاد کی اجازت دینے کو مسلم منافرت پر مبنی اقدام قرار دیا۔
سری نگر کی جامع مسجد کے خطیب اور حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے اس فیشن شو کو شرم ناک اور ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں فحش فیشن شو کا انعقاد کیا گیا، یہ وادی کی صوفیانہ اور مذہبی اقدار کے سراسر خلاف ہے۔
میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ اس بے حیائی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس میں ملوث افراد کو فوری طور پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
یہ معاملہ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر بھی شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ صارفین نے اس تقریب کے منتظمین اور حکومتی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں ایسی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے پیر کے روز اسمبلی میں بولتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گلمرگ کے فیشن شو میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک پرائیویٹ فنکشن تھا جو ایک پرائیویٹ ہوٹل کے صحن میں منعقد ہوا۔ حکومت کی کوئی ایجنسی اس میں ملوث نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی نے انوار حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا، ناگزیر وجوہات پر اب بھی حصہ ہے،خواجہ طارق سعید




