امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا اور انتہائی اہم دور آج سوئٹزر لینڈ میں شروع ہو رہا ہے جس کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود وہاں پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس اہم ترین بیٹھک میں جوہری مسئلے سمیت خطے کی مجموعی صورتحال اور لبنان میں جنگ بندی کے معاملے پر اہم پیش رفت متوقع ہے۔
مذاکرات کے اس دور کو کامیاب بنانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر پہلے سے ہی سوئٹزر لینڈ میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ان دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان برف پگھلانے اور بات چیت کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے قطری نمائندے بھی ان مذاکرات میں بطور ثالث اور سہولت کار باقاعدہ حصہ بن رہے ہیں تاکہ سفارتی کوششوں کو تیز کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ ایران تکنیکی مذاکرات :وزیراعظم شہباز شریف بطور ثالث شرکت کیلئے سوئٹرز لینڈ روانہ
ایرانی وفد “میناب 168” زیورخ ایئرپورٹ پہنچ گیا:
پاکستان اور قطر کی معاونت سے ہونے والے ان مذاکرات کے لیے ایران کا ایک انتہائی اعلیٰ سطح کا وفد باقر قالیباف کی سربراہی میں سوئٹزر لینڈ پہنچ چکا ہے۔ زیورخ ایئرپورٹ پر اترنے والے اس خصوصی ایرانی وفد کو ’’میناب 168‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت سیکیورٹی، مرکزی بینک اور تیل کے شعبوں سے وابستہ اعلیٰ ترین عہدیدار شامل ہیں جو تکنیکی سطح کی بات چیت کا حصہ بنیں گے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا مشن اور قیام:
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی نمائندگی کے لیے امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس بھی سوئٹزر لینڈ پہنچ چکے ہیں جہاں ان کا ایک سے دو دن قیام متوقع ہے۔ میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ ان کے اس اہم دورے کا بنیادی اور اولین مقصد جوہری مسئلے پر ٹھوس پیش رفت حاصل کرنا اور ساتھ ہی لبنان جنگ بندی کے معاملے کو آگے بڑھانا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی ثالثی کے تحت ایران ، امریکہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کل سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے




