امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات آج سوئٹزر لینڈ میں ہوں گے، جس کے تحت وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف بطور ثالث کردار ادا کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں ۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد تکنیکی سطح کے مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں آج بروز اتوار 21 جون 2026 کو منعقد ہوں گے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور چیف ڈیفنس فورسزو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ان مذاکرات میں شرکت کریں گے ، اسی سلسلے میں وزیرِ اعظم ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں ۔
یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی اور تکنیکی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں وزیر اعظم پاکستان کو اس عمل میں ایک غیر جانبدار اور اہم ثالث کے طور پر شامل کیا گیا ہے تاکہ بات چیت کو مثبت سمت دی جا سکے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی تاریخی کامیابی: وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر بطور ثالث دستخط کر دیے
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا جس کو عالمی سطح پر بھر پور طریقے سے سراہا گیا ہے ،وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دن رات محنت ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی معاہدہ ممکن ہوا ۔
اب دونوں فریقین میں تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور ہوگا جس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف سوئٹرز لینڈ کے لیے روانہ ہوگئے ہیں ۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان مذاکرات میں توانائی ، سلامتی اور علاقائی استحکام سمیت مختلف تکنیکی اُمور زیر بحث آئیں گے پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور مکالمے کے فروغ پر زور دیا ہے اور اسی پالیسی کے تحت یہ سفارتی کردار ادا کیا جا رہا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں عوامی ریلیف، مضبوط معیشت ،ترقی کی جانب اہم قدم
وزیر اعظم شہباز شریف کی اس شرکت کو عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردارکیلئے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہونے کی اُمید ہے بلکہ مستقبل میں مزید تعاون کے دروازے بھی کھلیں گے ۔




