فیفا ورلڈ کپ: پیراگوئے نے ترکیہ کو 0-1 سے ہرا کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا

فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے ایک انتہائی اہم، سنسنی خیز اور ہائی وولٹیج مقابلے میں پیراگوئے نے شاندار دفاعی کھیل اور بے مثال مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیورٹ قرار دی جانے والی ترکیہ کی ٹیم کو صفر کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دے کر ایونٹ کی دوڑ سے باہر کر دیا ہے۔ اس شاندار اور تاریخی فتح کے ساتھ ہی پیراگوئے نے ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کے لیے اپنی امیدیں کامیابی سے برقرار رکھی ہیں جبکہ ترکیہ کا ورلڈ کپ کا سفر یہیں پر ختم ہو گیا ہے۔

میچ کے دوران اپنے ایک اسٹار کھلاڑی کی کمی کے باوجود پیراگوئے کے کھلاڑیوں نے میدان میں جس غیر معمولی ہمت، دباؤ اور جرات کا مظاہرہ کیا، اسے دنیا بھر کے فٹ بال ماہرین اور مبصرین کی جانب سے شدید سراہا جا رہا ہے۔ پیراگوئے کے لیے یہ کامیابی اس لیے بھی انتہائی معجزاتی اور اہم ہے کیونکہ انہیں اپنے افتتاحی میچ میں میزبان ملک امریکہ کے ہاتھوں 1-4 کی بھاری اور عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد اس میچ میں فتح حاصل کر کے پیراگوئے نے ٹورنامنٹ میں شاندار واپسی کی ہے۔

میچ کے 64ویں سیکنڈ میں تاریخی گول اور نیا ریکارڈ:

اس اہم ترین میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول پیراگوئے کے مڈفیلڈر میٹیاس گالارزا نے میچ کے آغاز کے صرف 64ویں سیکنڈ میں اسکور کر کے تاریخ رقم کر دی۔ انہوں نے ہاف لائن کے قریب سے اکیلے ہی پیش قدمی کرتے ہوئے تقریباً 25 میٹر کی دوری سے ایک انتہائی زوردار، غضب ناک اور حیرت انگیز شاٹ لگایا، جو ترکیہ کے گول کیپر کو چھکاتا ہوا سیدھا جال میں جا پہنچا۔ 25 میٹر کی دوری سے 64ویں سیکنڈ میں گول کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پیراگوئے کے کھلاڑی ذہنی طور پر میچ کے پہلے ہی لمحے سے پوری طرح تیار تھے اور اس اچانک حملے نے ترکیہ کی دفاعی حکمتِ عملی کو میچ کے آغاز میں ہی تہس نہس کر دیا، جس کے نفسیاتی دباؤ سے ترکیہ کی ٹیم پورے میچ میں باہر نہ نکل سکی۔ میچ کا یہ گول جاری فیفا ورلڈ کپ 2026 کا اب تک کا تیز ترین گول بن گیا ہے؛ دلچسب بات یہ ہے کہ اس گول سے چند گھنٹے قبل ہی اسکاٹ لینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں مراکش کے کھلاڑی اسماعیل سیباری نے 71ویں سیکنڈ میں گول کر کے ریکارڈ بنایا تھا، جسے میٹیاس گالارزا نے محض چند گھنٹوں میں ہی توڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈکپ 2026: مراکش کی اسکاٹ لینڈ کے خلاف شاندار فتح، 3 قیمتی پوائنٹس حاصل کرلیے

ریڈ کارڈ کی نئی قانون سازی اور میگوئل المیرون کی معطلی:

پیراگوئے کی ٹیم کو پہلے ہاف کے اضافی وقت (انجری ٹائم) میں اس وقت ایک بڑا دھچکا لگا جب ان کے اسٹار مڈفیلڈر میگوئل المیرون کو ریفری نے براہِ راست ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔ میگوئل المیرون ورلڈ کپ کی تاریخ میں فیفا کے نئے نافذ کردہ ضابطے ’منہ پر ہاتھ رکھ کر بات کرنے پر پابندی‘ کے تحت سزا پانے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں، جس کا مقصد میدان میں ریفریز یا دیگر کھلاڑیوں کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال کو روکنا ہے تاکہ لپ ریڈنگ کے ذریعے کھلاڑیوں کے اچھے یا برے رویے کا صاف پتہ چل سکے اور شفافیت برقرار رہے۔ المیرون کا ریڈ کارڈ حاصل کرنا پیراگوئے کے لیے اگلے میچوں میں بڑا نقصان ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس نئے قانون کے تحت ریڈ کارڈ ملنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اب کھلاڑیوں کو میدان میں جسمانی کھیل کے ساتھ ساتھ اپنی جذباتی حرکات پر بھی شدید کنٹرول رکھنا ہوگا۔

10 کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ اور شاندار دفاع:

میدان میں صرف 10 کھلاڑی رہ جانے کے باوجود پیراگوئے کے مضبوط دفاعی حصار نے ترکیہ کے مسلسل، طوفانی اور جارحانہ حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور میچ کے آخری سیکنڈ تک اپنی 0-1 کی برتری کو برقرار رکھا۔ المیرون کی یہ غلطی ان کی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کر سکتی تھی، لیکن ان کے ساتھیوں نے اس کا اثر اپنے کھیل پر ہونے نہیں دیا۔ جہاں تک دونوں ٹیموں کے پس منظر کا تعلق ہے، ترکیہ کی ٹیم حالیہ یورپی مقابلوں میں بہترین کارکردگی کی بدولت اس ورلڈ کپ میں فیورٹ کے طور پر آئی تھی، جبکہ پیراگوئے جنوبی امریکی کوالیفائرز میں مشکلات کا شکار رہنے کے بعد یہاں پہنچا تھا اور امریکہ سے بدترین شکست کے بعد کسی کو امید نہیں تھی کہ پیراگوئے 10 کھلاڑیوں کے ساتھ ترکیہ جیسی مضبوط ٹیم کو روک پائے گا۔