محکمہ خزانہ نے اپنے ملازمین کی مالی سہولت اور حوصلہ افزائی کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے بجٹ کی تیاریوں میں مصروف عملے کو ایک ماہ کی اضافی تنخواہ بطور بونس دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بجٹ کے دوران دن رات کام کرنے والے ملازمین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باقاعدہ طور پر ایک سمری مرتب کر لی گئی ہے۔ سیکرٹری خزانہ نے اس مجوزہ سمری پر دستخط کر کے اسے حتمی منظوری کے لیے متعلقہ اعلیٰ حکام کو ارسال کر دیا ہے، جس میں سفارش کی گئی ہے کہ اہل ملازمین کو ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ کے برابر بونس فوری طور پر ادا کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری
بجٹ کے اہم ترین اور بھاری مرحلے کے دوران سامنے آنے والے اس فیصلے کے بعد محکمہ خزانہ کے ملازمین میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ اس بونس سے موجودہ معاشی صورتحال میں ان کی مالی مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی اور یہ فیصلہ ان کے لیے ایک مثبت اور بڑا مالی سہارا ثابت ہوگا۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سمری کی تیاری اور ارسال کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور متعلقہ حکام کی جانب سے گرین سگنل ملتے ہی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بونس کی رقم منتقل کرنے کے انتظامات شروع کر دیے جائیں گے۔



