سٹیٹ بینک آف پاکستان آج مالی سال کی آخری مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان آج رواں مالی سال کی آخری اور انتہائی اہم مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا۔ ملکی معیشت اور کاروباری حلقوں کی نظریں مرکزی بینک کے اس فیصلے پر لگی ہوئی ہیں، جس کے بعد آنے والے مہینوں میں معاشی سرگرمیوں کا رخ متعین ہوگا۔ اس اہم ترین موقع پر مالیاتی اداروں کی جانب سے ایک تفصیلی سروے بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں شرح سود کے حوالے سے ماہرین کی منقسم رائے سامنے آئی ہے۔

سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل سامنے آنے والے اس مالیاتی سروے میں دلچسپ صورتحال دیکھی گئی ہے، جہاں 49 فیصد شرکاء کا پختہ کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک اس بار شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھے گا، جبکہ دوسری جانب 49 فیصد شرکاء نے ہی یہ رائے دی ہے کہ سٹیٹ بینک نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں مزید اضافہ کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اے ٹی ایم فراڈ پر اسٹیٹ بینک کا بڑا ایکشن؛ بینکوں کے لیے سخت ہدایات جاری

بیسز پوائنٹس میں اضافے اور کمی کی مختلف آراء:

سروے کی گہرائی میں جائیں تو ماہرین کی آراء میں مزید تقسیم نظر آتی ہے۔ سروے میں شامل 34 فیصد شرکاء نے رائے دی ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی موجودہ معاشی اشاریوں کو دیکھتے ہوئے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس، 15 فیصد شرکاء کا سروے میں کہنا ہے کہ ملکی ضروریات کے تحت شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس تک کا بڑا اضافہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم، معاشی ماہرین کا ایک نہایت ہی چھوٹا طبقہ یعنی صرف 2 فیصد شرکاء ایسے بھی ہیں جن کا ماننا ہے کہ سٹیٹ بینک شرح سود میں کمی کر کے مارکیٹ کو سرپرائز دے سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: شرح سود میں کمی یا اضافہ؟سٹیٹ بینک کامانیٹری پالیسی سے متعلق اعلان

شرح سود برقرار رہنے کے اہم ترین معاشی عوامل:

معاشی تجزیہ کاروں اور مارکیٹ کے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ایسے مثبت معاشی عوامل موجود ہیں جو اسٹیٹ بینک کو سخت فیصلے سے روک سکتے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں آنے والی حالیہ نرمی، ملک کے اندر مہنگائی کی کنٹرول رفتار اور انٹربینک و اوپن مارکیٹ میں روپے کا استحکام وہ بنیادی وجوہات ہیں، جن کی بدولت سٹیٹ بینک کے لیے شرح سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنا ممکن ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی ان مثبت اشاریوں کو ترجیح دیتی ہے یا سخت مانیٹری پوزیشن برقرار رکھتی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر کے نام اہم پیغام، انتشار پھیلانے والوں کو کھری کھری سنا دیں