آزاد جموں کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے پڑاؤ اور جاری کشیدگی کے باعث جہاں گھروں میں راشن کی قلت پیدا ہو گئی ہے، وہاں شرپسند اور جرائم پیشہ عناصر نے مخدوش صورتحال کا فائدہ اٹھا کر دکانوں اور تجارتی املاک کو بے دردی سے لوٹنا شروع کر دیا ہے، جس سے تاجر برادری شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔
آزاد جموں کشمیر کا خوبصورت شہر راولاکوٹ اور اس کے گردونواح گزشتہ چند روز سے شدید کشیدگی اور امن و امان کی سنگین صورتحال کی لپیٹ میں ہیں۔ اس نازک صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اب تجارتی املاک اور دکانوں کو نشانہ بنانے کے انتہائی افسوسناک اور تشویشناک واقعات سامنے آنے لگے ہیں۔ شہر سے موصول ہونے والی اطلاعات اور سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز کے مطابق، کچھ شرپسند عناصر، چوروں اور قانون شکن افراد نے ہنگامہ آرائی اور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر دکانوں کے تالے توڑ کر لوٹ مار شروع کر دی ہے۔ وائرل ہونے والے شواہد میں ایک مقامی بیکری کے اندر ہونے والی توڑ پھوڑ اور قیمتی سامان کی چوری کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے دھرنے ختم، سینئر صحافیوں کی تصدیق
لاکھوں روپے کی چوری، شہری گھروں میں محصور اور راشن کی قلت:
راولاکوٹ کی تاجر برادری اور مقامی شہریوں کے مطابق، یہ نقصان صرف کسی ایک دکان تک محدود نہیں ہے، بلکہ شرپسندوں نے شہر کے مختلف حصوں میں موجود جیولری شاپس، جنرل اسٹورز اور متعدد دیگر کاروباری مراکز کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے مالیت کا سامان اور نقدی غائب کر دی ہے۔ دوسری طرف، مسلسل پہیہ جام، تالا بندی اور دھرنوں کے باعث مقامی مکینوں کے گھروں میں کھانے پینے کے سامان اور اشیاءِ خورونوش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جبکہ لاقانونیت اور لوٹ مار کے ان واقعات کی وجہ سے خوف کی فضا قائم ہے اور عام لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں سرگرم ہونے والا یہ اوباش طبقہ شہریوں کی عمر بھر کی جمع پونجی اور روزگار کو بے دردی سے لوٹ رہا ہے، جس نے تاجروں کی معاشی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
احتجاجی تحریک کا پس منظر اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ:
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں پچھلے طویل عرصے سے بجلی کے بلوں، سبسڈی اور مہنگائی کے خلاف کالعدم عوامی ایکشن کمیٹیوں کی جانب سے احتجاجی تحریک چلائی جا رہی تھی۔ ابتدا میں یہ تحریک دھرنوں اور پہیہ جام ہڑتالوں تک محدود تھی، تاہم حکومت کی جانب سے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے اور قیادت کی گرفتاریوں کے بعد صورتحال تیزی سے پرتشدد رخ اختیار کر گئی۔ راولاکوٹ، جو کہ پونچھ ڈویژن کا انتظامی اور تجارتی مرکز ہے، اس تحریک کا بڑا گڑھ رہا ہے اور اسی احتجاج کے دوران جب ریاستی انتظامیہ کا کنٹرول عارضی طور پر کمزور ہوا، تو مقامی جرائم پیشہ عناصر سرگرم ہو گئے۔ اب راولاکوٹ کی تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی نے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان نقاب پوش چوروں اور ڈاکوؤں کی فوری شناخت کر کے ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی (ATA) اور چوری کی سخت دفعات کے تحت کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔




