ممبر کالعدم ایکشن کمیٹی حمید کشمیری اورساجد اعظم کی شرانگیز آڈیو منظرعام پرآ گئی

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے اسی) کے بعض رہنماؤں کی مبینہ لیک آڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آگئی ۔ آڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ آڈیو میں ایکشن کمیٹی کے صدر ٹریڈ یونین تھورار ضلع پونچھ ساجد اعظم اور کمیٹی کے رکن حمید کشمیری کے درمیان گفتگو سنی جا سکتی ہے، جس میں راولاکوٹ میں پیش رفت، جلوسوں اور ممکنہ داخلے سے متعلق بات چیت کا ذکر کیا گیا ہے۔

کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے شرپسند رکن حمید کشمیری اورساجد اعظم کی شرانگیز آڈیولیک منظرعام پرآ گئی

کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی آزادکشمیرمیں امن و امان خراب کرنےاورشرپسندی پھیلانےکی منصوبہ بندی کابھانڈاپھوٹ گیا

کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممبران کی آڈیو لیک نےکالعدم کمیٹی کےپرامن ہونےکےدعوئوں کی قلعی کھول کررکھ دی ۔لیگ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کارندہ ساجد اعظم کہہ رہا ہے کہ ؛

میرے ساتھ 500 رائفل والے ہیں جو مکمل جنگجواورتیارہیں۔آڈیولیک میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےشرپسند عہدیدارراولاکوٹ کی طرف پیش قدمی جیسےگھناؤنےعزائم کااظہارکر رہے ہیں

ساتھ ہی وہ یہ دعویٰ بھی کرتا سنائی دیتا ہے کہ راولاکوٹ پہنچ کر اسیر ساتھی رِہا کروالیں گے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:راولاکوٹ کے اطراف میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا پڑاؤ، گھروں میں کھانے پینے کے سامان کی قلت، چور اُچکوں نے دکانیں لوٹنا شروع کردیں

آڈیوکال لیک میںجتھوں کومخصوص مقامات پرپہنچانے اورداخل کرنےکی منصوبہ بندی کرتےہوئے بھی سناجاسکتا ہے ۔

آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ سرغنہ ساجد اعظم سفاکی سے کہتا ہے کہ لوگ مرتے رہتے ہیں ۔

لیڈروں نے ہمیں ذلیل کردیا،کالعدم تنظیم کے کارندے ساجد اعظم کی آڈیولیک میں گفتگو۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارندوں کی آڈیو لیک نے ان کے پرامن ہونے کا سارا ڈھونگ بے نقاب کر دیا ۔

آڈیو کال میں500مسلح افراد کا ہونا مبالغہ آرائی ہے جو ان عناصر کے جھوٹے ہونے کو ثابت کرتا ہے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی گری ہوئی گفتگومخصوص انتشار پسند سوچ کی عکاس ہے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی سرغنہ قیادت جمہوری راستہ اختیار کرنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتی تھی ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف انتشار پھیلانا تھا تاکہ کشمیر کی عوام کا عدم اعتماد ظاہر ہو جس سے انڈیا کے بیانیے کو تقویت ملتی ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست کو چاہیے کہ ان جتھوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے اور اس تحریک کے کالعدم لیڈران کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔

لیک شدہ گفتگو میں ایک فریق کی جانب سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آیا کوئی جلوس آ رہا ہے یا نہیں، جس پر جواب میں کہا جاتا ہے کہ عمر نذیر نے ہدایت دی ہے کہ آج نہیں بلکہ کل داخل ہونا ہے۔

آڈیو کے بعض حصوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں افراد موجود ہیں اور کسی ممکنہ پیش قدمی یا داخلے کی حکمت عملی پر بات ہو رہی ہے۔ گفتگو میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ “راولاکوٹ میں داخل ہونے” کے بعد مختلف مطالبات پیش کیے جائیں گے۔

مزید گفتگو میں اندرونی ناراضی، قیادت پر تحفظات اور سخت لہجے میں بعض بیانات بھی شامل ہیں، جن میں صورتحال کو کشیدہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:برطانیہ میں بیٹھ کر ریاستی اداروں پر کیچڑ اچھالنا، میرپور کے عمران شیخ کے خلاف بغاوت اور دھمکیوں کا مقدمہ درج

یہ آڈیو سامنے آنے کے بعد علاقے میں سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر مختلف ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔