یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر سامنے آگئی ہے۔ بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق یورپی ممالک میں جون 2026 سے نئے پناہ گزین اور مائیگریشن معاہدے کا اطلاق شروع کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نظام کو زیادہ تیز، منظم اور مؤثر بنانا ہے۔
بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق نئے فریم ورک کے تحت یورپی سرحدوں پر داخلے کے وقت سخت جانچ پڑتال لازمی ہوگی۔ اس کے علاوہ پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں کے عمل کو بھی پہلے کے مقابلے میں تیز کیا جائے گا تاکہ غیرقانونی طور پر رہنے والے افراد کی شناخت اور ان کے کیسز پر جلد فیصلہ ممکن بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: تاریخی حجاز ریلوے منصوبے’’ خلیج یورپ کوریڈور‘‘کی بحالی ،سعودیہ اور ترکیہ کامعاہدہ طے
حکام کے مطابق نئے معاہدے کا ایک اہم حصہ غیر یورپی یونین ممالک کے ایسے شہریوں کی واپسی کے عمل کو مزید مؤثر بنانا ہے جو غیرقانونی طور پر یورپی ممالک میں مقیم ہوں۔ اس مقصد کے لیے نیا واپسی فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے جبکہ یورپی یونین کی سطح پر محفوظ ممالک کی ایک فہرست بھی ترتیب دی گئی ہے۔
بیورو آف ایمیگریشن کے مطابق نئے قوانین کے تحت قانونی راستوں کے بجائے غیرقانونی ذرائع اختیار کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی مزید سخت ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کرتا تو اسے فوری طور پر واپس بھیجا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ڈنکی لگا کر یورپ جانے کی کوشش، لیبیا سے 177پاکستانی ڈی پورٹ
ماہرین کے مطابق نئے مائیگریشن اور پناہ گزین معاہدے کا مقصد یورپی ممالک میں داخلے، پناہ کی درخواستوں اور غیرقانونی قیام سے متعلق امور کو ایک مربوط نظام کے تحت لانا ہے تاکہ فیصلوں میں تاخیر کم ہو اور امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔




