سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ؛ کالعدم ایکشن کمیٹی کے ارکان کی اسپتال میں توڑ پھوڑ، مریضوں اور زخمی اہلکاروں پر تشدد

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں واقع کمبائنڈ ملٹری اسپتال (CMH) میں اس وقت انتہائی افسوسناک اور پریشان کن مناظر دیکھنے کو ملے جب کالعدم ایکشن کمیٹی کے مشتعل ارکان نے اسپتال پر دھاوا بول دیا۔ مبینہ طور پر بھارت سے روابط رکھنے والی اس کالعدم تنظیم کے ارکان نے نہ صرف اسپتال کی املاک کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ وہاں زیرِ علاج معصوم مریضوں اور ڈیوٹی کے دوران زخمی ہونے والے پولیس اور فیڈرل کانسٹیبلری (FC) کے اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

cctvفوٹیج کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی کے متعدد ارکان لاٹھیاں اور ڈنڈے ہاتھوں میں لیے اچانک سی ایم ایچ (CMH) راولاکوٹ کے اندر داخل ہو گئے۔ ان شرپسند عناصر نے اسپتال کے مختلف وارڈز میں گھس کر سرکاری املاک کی شدید توڑ پھوڑ کی اور طبی عملے کو ہراساں کیا۔ اس اچانک حملے اور غنڈہ گردی کے باعث اسپتال میں طبی خدمات بری طرح معطل ہو گئیں، جس سے وہاں موجود مریضوں اور ان کے لواحقین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ میں سی ایم ایچ کا محاصرہ ختم، شرپسند عناصر منتشر؛ فائرنگ کے تبادلے میں فورسز کے 4 اہلکار شہید، تجارتی مراکز اور شاہراہیں بحال

حملے کے دوران سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ سامنے آیا کہ ان عناصر نے وارڈز میں داخل ہو کر وہاں بستروں پر موجود عام مریضوں کو بھی نہیں بخشا اور ان پر تشدد کیا۔ اس کے ساتھ ہی، حالیہ دنوں میں لاء اینڈ آرڈر کی ڈیوٹی کے دوران زخمی ہونے والے پولیس اور فیڈرل کانسٹیبلری کے جو جوان وہاں زیرِ علاج تھے، ان پر بھی وحشیانہ حملہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ اس اہم طبی جائزے (Facility) میں زیرِ علاج مریضوں کی بھاری اکثریت مقامی کشمیری رہائشیوں پر مشتمل ہے، جنہیں اس حملے کے باعث شدید مشکلات اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

برطانیہ میں بیٹھی قیادت کے دوغلے پن پر عوامی سوالات:

اس سنگین واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ اس بربریت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ برطانیہ (UK) اور دیگر بیرونی ممالک میں بیٹھ کر اس نام نہاد ایکشن کمیٹی کی قیادت کرنے والے اور ان کی حمایت کرنے والے عناصر کیا وہاں کے قوانین کے تحت کسی اسپتال میں اس طرح لاٹھیاں اور ڈنڈے لے کر داخل ہونے کی جرات کر سکتے ہیں؟ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ دوغلا پن واضح کرتا ہے کہ ان عناصر کا مقصد صرف اپنے ہی علاقے کے لوگوں اور امن کو تباہ کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: مذاکرات کی ناکامی پر ایکشن کمیٹی کی خوشی کے پیچھے چھپا راز کیا؟ غلام اللہ اعوان کا بڑا انکشاف