معروف تجزیہ کار غلام اللہ اعوان نے ایکشن کمیٹی کے اصل عزائم کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی پر کالعدم ایکشن کمیٹی کے ارکان کی خوشی اور باڈی لینگویج واضح کر رہی تھی کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے نہیں، بلکہ سڑکوں پر ہنگامہ آرائی کے ذریعے خود کو ہیرو بنانے کے چکر میں تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مذاکرات ناکام ہونے پر افسوس کے بجائے وہاں باقاعدہ جش کا سماں تھا۔
غلام اللہ اعوان نے صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ جس دن مذاکرات ناکام ہوئے، اگر آپ اس وقت کالعدم ایکشن کمیٹی کے ممبران کی باڈی لینگویج دیکھتے تو حیران رہ جاتے۔ مذاکرات ناکام ہونے کی انہیں اتنی زیادہ خوشی تھی کہ ان کے چہرے کھلکھلا رہے تھے اور وہ انتہائی جذباتی انداز میں نعرے بازی کر رہے تھےکہ “ہم لڑیں گے، ہم مریں گے”۔ انہوں نے کہا کہ لڑنے اور مرنے کی باتیں کرنا اور مذاکرات کی ناکامی پر خوش ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر الیکشن میں مزید 3سیاسی جماعتوں کی انٹری، رجسٹریشن کرالی
اپنے تجزیے میں انہوں نے واضح کیا کہ جس وقت مذاکرات ناکام ہوئے، اس وقت تو حقیقت میں دُکھ ہونا چاہیے تھا، افسوس ہونا چاہیے تھا اور دل میں یہ تکلیف ہونی چاہیے تھی کہ اب ہم بھائی بھائی کے سامنے آ جائیں گے اور امن و امان خراب ہوگا۔ لیکن اس کے برعکس، وہاں کا منظر بالکل الگ تھا اور ایکشن کمیٹی کے کیمپ میں باقاعدہ جشن کا سماں بنا ہوا تھا، جو ان کی نیتوں کو صاف ظاہر کرتا ہے۔
تجزیہ کار نے ایک اہم ترین نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کور ممبر عمر نذیر کشمیری نے خود یہ بیان دیا کہ “اگر حکومتِ آزاد کشمیر ان 12 مہاجرین کی نشستیں ختم ہی کر بھی دےپھر بھی ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے”۔ عمر نذیر کشمیری کا یہ بیان ثابت کرتا ہے کہ وہ ہر صورت میں سڑکوں پر نکلنے کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے۔ غلام اللہ اعوان نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ اصل میں عوام کے معاملات اور مسائل حل کرنے کے لیے میز پر نہیں بیٹھے تھے، بلکہ یہ صرف سڑکوں پر کھینچ تان کر کے اپنے آپ کو ہیرو اور ملک کی اصل پولیٹیکل قیادت کو زیرو بنانے کے چکر میں تھے۔




