آزاد جموں و کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں گزشتہ روز 7 جون کی شام کو کالعدم ایکشن کمیٹی کے پرتشدد اور مسلح عناصر نے سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کی، جس کے بعد امن و امان کی صورتحال بگاڑنے کی سنگین کوشش کی گئی۔
ترجمان انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر کے مطابق مسلح اور مشتعل شرپسندوں نے فائرنگ کے بعد سی ایم ایچ (CMH) راولاکوٹ کا محاصرہ کر لیا تھا، جس کے باعث ہسپتال کی معمول کی طبی خدمات اور علاج معالجے کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں جبکہ ان مشتعل افراد نے مختلف مقامات پر آگ لگائی اور سرکاری و نجی املاک کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔ اس نازک صورتحال کے پیش نظر، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت، تحمل اور بلند ترین ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 7 اور 8 جون کی درمیانی شب ایک نہایت منظم، ہدفی اور محدود نوعیت کی کارروائی کی جس کے ذریعے سی ایم ایچ راولاکوٹ کا محاصرہ کامیابی سے ختم کروا دیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران عام شہریوں، مریضوں، طبی عملے اور سرکاری املاک کے تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی، جس کے بعد اب ہسپتال کا محاصرہ مکمل طور پر کلیئر کروا کر تمام طبی خدمات معمول کے مطابق بحال کر دی گئی ہیں، شرپسند عناصر کو منتشر کیا جا چکا ہے، بیشتر شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں اور بازار و تجارتی مراکز بھی مقامی معمولات کے مطابق مکمل سرگرم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف سوشل میڈیا کا گھناؤنا پروپیگنڈا،26 نومبر 2024 کی طرز پر راولاکوٹ کی عوام کو ریاست کیخلاف کرنے کی سازش بے نقاب
ترجمان اے جے کے پولیس نے نقصانات اور جانی نقصان کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 6 جون سے لے کر اب تک پرتشدد عناصر کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جن میں آزاد جموں و کشمیر راولاکوٹ پولیس کے 3 جوان اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) کا 1 اہلکار شامل ہے، جبکہ اس کارروائی کے دوران متعدد دیگر اہلکار شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، اسی دوران کالعدم ایکشن کمیٹی کے 3 افراد خود اپنی ہی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں، اور ان تین جاں بحق افراد میں 5 اور 6 جون کی درمیانی رات کو ہلاک ہونے والے مسلح شرپسند بھی شامل ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر پولیس اور دیگر تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ریاستی رٹ کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں انتہائی احسن انداز میں انجام دے رہے ہیں اور ان کی یہ خدمات قابلِ تحسین ہیں۔
آزاد کشمیر پولیس کے مطابق جامِ شہادت نوش کرنے والے وطن کے ان بیٹوں کی نمازِ جنازہ جلد ہی انتہائی احترام اور پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائے گی۔ ترجمان نے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح اور پرتشدد شرپسندوں کے خلاف قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے اور ملک میں انتشار پھیلانے والے تمام سرغنہ اور کارکنان کو بہت جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ پولیس نے عام عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ کالعدم ایکشن کمیٹی یا اس سے وابستہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں شرکت سے مکمل گریز کریں، شرپسندوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہوں اور گمراہ کن پروپیگنڈے پر بالکل یقین نہ کریں، اور صرف مستند سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں کیونکہ راولاکوٹ کی صورتحال سے متعلق تمام حقائق پر مبنی معلومات مسلسل اور بلا تعطل عوام کے ساتھ شیئر کی جاتی رہیں گی۔
واضح رہے کہ شہر راولاکوٹ سمیت ریاست بھر میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن اور ریاستی رٹ کی بحالی کے بعد حالات مکمل طور پر معمول کے مطابق ہو چکے ہیں، جہاں عوام نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ مقامی صرافہ بازار، تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز اور دکانیں حسب معمول کھل چکی ہیں اور سڑکوں پر پبلک و نجی ٹریفک کی روانی بھی مکمل طور پر بحال ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہر کے تمام تعلیمی ادارے، اسکول اور سرکاری و نجی دفاتر بھی فعال ہو چکے ہیں جہاں ملازمین اور طلبہ کی حاضری معمول کے مطابق دیکھی جا رہی ہے۔ راولاکوٹ شہر کے تازہ ترین مناظر اور بازاروں کی گہما گہمی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی شہریوں نے کسی بھی قسم کے خوف و خطر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی روزمرہ زندگی کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں اور شرپسند عناصر کے پروپیگنڈے کو یکسر رد کر دیا ہے۔




