ایران، امریکہ اور اسرائیل اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کریں، چینی وزارتِ خارجہ

چین نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ہوئے تنازعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام فریقین اپنے اختلافات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں۔ چینی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اب ٹھوس اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔

بیجنگ سے جاری بیان میں ترجمان چینی وزارتِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ فریقین انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے کے خلاف دشمنی کے اقدامات کو فوری طور پر روکیں۔ چینی حکومت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی قسم کے عالمی یا علاقائی اختلافات اور تنازعات کو فوجی کارروائیوں یا طاقت کے بل بوتے پر حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے پرامن راستے اختیار کرنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف، قابلِ اعتماد ثالث قرار دیدیا

تین ماہ کا تنازع اور خلیجی ممالک پر اثرات:

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے جاری امریکہ، اسرائیل اور ایران کے اس شدید تنازع نے خلیجی ممالک اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔ اس طویل کشیدگی کے باعث خطے میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جس کے لیے فوری سفارتی مداخلت ناگزیر ہے۔

مذاکرات کے اہم مرحلے پر فوجی کشیدگی سے گریز:

ترجمان چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک انتہائی اہم مرحلہ چل رہا ہے۔ چین کے مطابق اس حساس موڑ پر کسی بھی قسم کے نئے فوجی تنازع کو ہوا نہیں دینی چاہیے، کیونکہ کوئی بھی نئی فوجی کشیدگی جاری مذاکراتی عمل کو مکمل طور پر سبوتاژ کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور چین کا دہشتگردوں کیخلاف دوٹوک مؤقف، وزیراعظم کے دورہ چین پر مشترکہ اعلامیہ جاری