عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ،مشرق وسطیٰ کشیدگی کے گہرے اثرات

واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی اور امریکی خام تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں نے ایک بار پھر اونچی اڑان بھر لی ہے۔ بدھ کے روز عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے دنیا بھر میں ایندھن مزید مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکہ ایران جنگ بندی کو خطرات اور حملےرپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اس وقت بڑھیں جب امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں کی گئیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے واقعے کا جواب دینے کا اعلان کیا تھا، جس کے فوراً بعد امریکی فوج نے ایرانی اہداف پر حملے کیے۔ اس نئی پیش رفت نے امریکہ اور ایران کے درمیان قائم انتہائی نازک جنگ بندی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر پڑے۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے نئے ریٹس:

مشرقِ وسطیٰ کی اس ابھرتی ہوئی صورتحال کے باعث عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 83 سینٹ اضافے کے بعد 92.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی 68 سینٹ کا اضافہ دیکھا گیا اور وہ 88.97 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس نئی کشیدگی کے بڑھنے سے سپلائی بری طرح متاثر ہونے کے خدشات گہرے ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی، پٹرول سستا ہونے کی امید

آبنائے ہرمز پر پابندیاں اور علاقائی پیچیدگیاں:

ایران نے بھی عالمی سطح پر خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لائن آف کنٹرول یا لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ دوبارہ جنگی اقدامات شروع کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرنے والی بحری آمدورفت پر عائد پابندیوں نے عالمی مارکیٹ کو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی تقریباً 20 فیصد سپلائی گزرتی ہے۔

امریکی ذخائر میں مسلسل آٹھویں ہفتے بڑی کمی:

توانائی مارکیٹ پر اثر انداز ہونے والا دوسرا بڑا عنصر امریکی خام تیل کے ذخائر میں مسلسل آٹھویں ہفتے ہونے والی کمی ہے۔ امریکن پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ (API) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 5 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 9.12 ملین بیرل جبکہ پٹرول کے ذخائر میں 1.19 ملین بیرل کی بڑی کمی واقع ہوئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ کشیدگی برقرار رہی اور امریکی ذخائر یوں ہی گرتے رہے تو عالمی منڈی میں قیمتیں مزید بڑھیں گی، جس کا اثر دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات پر آئے گا۔

مزید پڑھیں: مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ، پٹرول سستا جبکہ ڈیزل کی قیمتیں برقرار