امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جدید اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد ایران پر حملے کئے گئے جس کے بعدایرانی میڈیا کے مطابق ساحلی علاقے سیریک اور کئی دیگر مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام )کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے ایران کے خلاف اپنے دفاعی حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے امریکا کا ہیلی کاپٹر مار گرایا، ٹرمپ کی تصدیق
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ حملےگزشتہ روز امریکی فوج کے اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانےکے ردعمل میں کیے گئے تھے۔
ایران کی مہر خبررساں ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ سیرک پورٹ اور اس کے آس پاس کے دیہات کے رہائشیوں نے علاقے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں جن کی نوعیت کا ابھی علم نہیں ہوسکا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ گھنٹے قبل کہا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے، امریکی افواج ایران کیخلاف سخت سے سخت جوابی کارروائی کریں گی۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں الزام عائد کیا تھاکہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی جدید فوجی اپاچی ہیلی کاپٹر کو ایران نے مار گرایا ہے جس سے وہ سمندر برد ہوگیا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجھے امریکی فوج کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ ایرانی فورسز نے گزشتہ رات گشت پر مامور جدید امریکی AH-64 اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکاکیساتھ رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے؟ایرانی مندوب اقوام متحدہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہیلی کاپٹر میں موجود دونوں پائلٹس کو جدید ترین ریسکیو آپریشن کے ذریعے بچالیا گیا لیکن امریکی افواج ایران کو سخت جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ اگلے دو سے 3دنوں میں ایران کیساتھ معاہدہ طے پا جائیگا۔




