وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے حالیہ کشیدہ صورتحال کے باوجود کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک بار پھر مذاکرات کی باقاعدہ دعوت دی ہے۔ انہوں نے اس بات پر سخت زور دیا ہے کہ تمام درپیش مسائل کا حل تصادم کے راستے میں نہیں بلکہ صرف بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے اہم موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جا سکتا ہے تو پھر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اس عزم کو واضح کیا کہ حکومت اب بھی مذاکرات کے تمام دروازے مکمل طور پر کھلے رکھنا چاہتی ہے اور اس پورے مسئلے کا ایک پرامن حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ریاست اور عوامی ایکشن کمیٹی میں سے کوئی بھی فریق دوسرے کو شکست دے کر کامیاب نہیں ہو سکتا، جبکہ انسانی جانوں کے نقصان کے بعد حاصل ہونے والی کسی بھی کامیابی کو وہ کسی صورت کامیابی تسلیم نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کے ممبر محسن خلیل نے گرفتاری دیدی، عوام سے احتجاج میں شرکت نہ کرنیکی اپیل
تصادم پر افسوس اور کمیٹی کو کالعدم کرنے کی وجوہات:
وزیراعظم آزاد کشمیر نے موجودہ بحران کے دوران ہونے والے جانی ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کا نقصان انتہائی افسوسناک ہے اور اس سے ہر ممکن طور پر بچنا چاہیے تھا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے حکومتی فیصلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس اقدام کے لیے جو شواہد موجود ہیں، انہیں اس وقت میڈیا کے سامنے نہیں لایا جا سکتا، تاہم جن متعلقہ اداروں کے پاس شواہد موجود تھے، انہی کی سفارش پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ ان کے بقول، حکومت نے یہ سخت اقدام ان مخصوص حالات میں اٹھایا جب ریاستی نظام کو چیلنج کرنے اور ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کوششوں کا ایک تاثر پیدا ہو رہا تھا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے انٹرویو میں یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ خود شروع سے ہی اس تمام مذاکراتی عمل کا حصہ رہے ہیں اور انہیں پہلے ہی یہ شدید خدشہ لاحق تھا کہ اگر فریقین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ منقطع ہوا تو حالات لازمی طور پر تصادم کی طرف جا سکتے ہیں۔
آئینی معاملات اور دباؤ کی حکمت عملی:
حکومتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کی قیادت سے معاملات پر غور کے لیے مزید وقت مانگا تھا، کیونکہ مہاجرین کی مخصوص نشستوں کا معاملہ خالصتاً ایک آئینی اور سیاسی نوعیت کا تھا جس پر تمام فریقوں کے درمیان مکمل اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی ضروری تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت کو بعض حلقوں کی جانب سے ایسے اشارے مل رہے تھے کہ مطالبات تسلیم ہونے کے باوجود لانگ مارچ کی کال واپس نہیں لی جائے گی اور اسے ہر صورت برقرار رکھا جائے گا، جبکہ اس دوران سوشل میڈیا پر اسمبلی پر حملوں سے متعلق مختلف مواد بھی مسلسل گردش کر رہا تھا۔ ان کے مطابق، ان تمام معاملات کو مذاکرات کے ذریعے احسن طریقے سے حل کیا جا سکتا تھا، لیکن بعض عناصر نے سڑکوں پر دباؤ بڑھا کر زبردستی فیصلے لینے کی حکمت عملی اختیار کی۔
عوامی حیثیت اور امن کے لیے اپیل:
فیصل ممتاز راٹھور نے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ اگرچہ حکومت معاملات میں ہونے والی تاخیر کی ذمہ داری سے مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہے، تاہم موجودہ سنگین صورتحال کے ذمہ دار وہ تمام عناصر بھی ہیں جنہوں نے کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے حالات کو مزید پیچیدہ بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی کے ممبران تو کالعدم ہو سکتے ہیں لیکن عوام کبھی کالعدم نہیں ہوتے، اور اب بھی سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے ہی کوئی راستہ نکالا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: آزادکشمیر عوام نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو مسترد کر دیا،آئی جی لیاقت علی ملک
وزیراعظم آزاد کشمیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ہر ممکن سطح پر یہ کوشش کرے گی کہ علاقے میں حالات دوبارہ معمول پر آئیں، جاری کشیدگی کا خاتمہ ہو اور تمام تصفیہ طلب معاملات سیاسی عمل اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔ انہوں نے ایکشن کمیٹی کی قیادت سے پرزور اپیل کی کہ وہ مزید جانی نقصان اور تصادم سے بچنے کے لیے دوبارہ مذاکراتی عمل کا حصہ بنے۔




