واشنگٹن سے حاصل ہونے والی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے جلد خاتمے کا اشارہ دیا ہے۔ بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار امریکی مطالبات کے سامنے جھکنے اور ہمیں سب کچھ دینے کے لیے پوری طرح تیار ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے پیر کی شام جنوبی کیرولینا سے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور ریاست کی گورنری کی امیدوار پامیلا اوٹ کی حمایت میں منعقدہ ایک ٹیلی فون ریلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ اہم باتیں کہیں۔ سی بی ایس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ریلی کے شرکا کو یقین دلایا کہ وہ بہت جلد ایک بڑی کامیابی دیکھنے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی عدالت نے غیر ملکی ملازمین کیلئے ایچ ون بی ویزا کی ٹرمپ پالیسی ردکردی
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آپ واقعی اگلے دو ہفتوں میں ایک بڑی فتح دیکھنے جا رہے ہیں، جب ہم ایران پر اپنی مکمل فتح کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک مکمل اور تاریخی فتح ہونے والی ہے جو بہت جلد سامنے آئے گی اور اس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت ڈرامائی طور پر گرنے والی ہے۔
بحران کے خاتمے کا دعویٰ اور موجودہ ابہام:
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید تنازع کے فوری اور حتمی خاتمے کے بارے میں بارہا اسی قسم کی پیشین گوئیاں کی ہیں۔ وہ فروری کے آخر میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ بحران چند ہی ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کے روکنے کے باوجود اسرائیل کے ایران اور لبنان پر فضائی حملے
تاہم، بی بی سی اور سی بی ایس کی رپورٹس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات کی اصل صورتحال ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اب تک یہ مکمل طور پر پوشیدہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مذاکرات کس مرحلے پر پہنچے ہیں اور دونوں فریقین کسی حتمی معاہدے پر دستخط کرنے کے کتنے قریب ہیں۔




