پاکستان میں خواتین کے کھیلوں اور بالخصوص ٹینس کے فروغ کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے، جس کے باعث رواں سال 2 بڑے عالمی ٹورنامنٹس کی میزبانی پاکستان کو مل گئی ہے۔
پاکستان ٹینس فیڈریشن (پی ٹی ایف) نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ پاکستان اکتوبر 2026 میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 2 بین الاقوامی آئی ٹی ایف ویمنز فیوچرز ٹورنامنٹس کی میزبانی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:حسن علی نے تاریخ رقم کر دی؛ راشد خان کا بڑا ریکارڈ توڑ کر ٹی 20 کے نئے سلطان بن گئے
اس اقدام سے ملکی خواتین کھلاڑیوں کو ہوم گراؤنڈ پر عالمی سطح کے مقابلوں میں اپنی صلاحیتیں دکھانے اور قیمتی انٹرنیشنل رینکنگ پوائنٹس حاصل کرنے کا سنہری موقع ملے گا۔
پاکستان ٹینس فیڈریشن کے مطابق یہ دونوں آئی ٹی ایف ڈبلیو ویمنز فیوچرز ٹورنامنٹس 5 اکتوبر 2026 سے اسلام آباد کے کلے کورٹس پر شروع ہوں گے اور یہ مقابلے بیک ٹو بیک (مسلسل) کھیلے جائیں گے۔
یہ پاکستان کی کھیل کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ملک مسلسل 2 آئی ٹی ایف ویمنز فیوچرز ایونٹس کی میزبانی کر رہا ہے، جسے قومی ٹینس کے حلقوں میں ایک بہت بڑا اور اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر اور عالمی شہرت یافتہ ٹینس اسٹار اعصام الحق قریشی نے اس تاریخی موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیڈریشن نے پہلے ہی مرد کھلاڑیوں کے لیے آئی ٹی ایف مینز فیوچرز ایونٹس کے ذریعے بہترین مواقع فراہم کیے ہیں اور اب خواتین کھلاڑیوں کو بااختیار بنانے کے لیے اسی نوعیت کے بین الاقوامی مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
اعصام الحق قریشی نے کہا کہ اکتوبر میں ہونے والے یہ ٹورنامنٹس پاکستانی خواتین کھلاڑیوں کو اپنا ملک چھوڑے بغیر عالمی رینکنگ پوائنٹس حاصل کرنے اور بین الاقوامی سطح کا تجربہ حاصل کرنے کا بہترین پلیٹ فارم مہیا کریں گے۔
ان مقابلوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ قومی خواتین کھلاڑیوں کے بھاری سفری اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور انہیں آئندہ منعقد ہونے والے عالمی ’بلی جین کنگ کپ‘کی تیاریوں میں بھرپور مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ڈائمنڈ جوبلی انٹر نیشنل فٹبال ٹورنامنٹ، پاکستان فائنل میں پہنچ گیا
’بلی جین کنگ کپ‘ خواتین ٹینس کا عالمی کپ کہلاتا ہے، جہاں پاکستان کی ویمنز ٹیم بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کرتی ہے۔
ہوم گراؤنڈ پر 15,000 ڈالر انعامی رقم کے حامل ان بین الاقوامی ایونٹس کے انعقاد سے پاکستانی ٹینس کٹ میں موجود کھلاڑیوں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوگا اور غیر ملکی نامور کھلاڑیوں کی آمد سے ملک میں اسپورٹس ٹورازم کو بھی فروغ ملے گا۔



