گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے کوششیں شروع کر دی گئیں ہیں، جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اتحاد سے حکومت بننے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد پی ڈی ایم طرز پر ہوسکتا ہے، گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی کا ہوگا جب کہ گورنر مسلم لیگ (ن) کا ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان انتخابات، 19نشستوں کے مکمل نتائج موصول،کئی بڑے برج الٹ گئے
ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت میں وزارتوں کی تقسیم کا 60/40 کا فارمولا ہوگا۔
اس سے قبل ایوان صدر میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی ملاقات بھی ہوئی۔ اس اہم ملاقات میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ موجود تھے۔
اس علاوہ ملاقات میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، شیری رحمان، نوید قمر اور سلیم مانڈوی والا،وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور اور راجا پرویز اشرف بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
ملاقات میں گلگت بلتستان کے انتخابات اور آزاد کشمیر کی صورتحال سمیت قومی اہمیت کے امور پر گفتگو ہوئی جبکہ ملاقات میں حکومت اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کی بیشتر بجٹ تجاویز سے اتفاق کرلیا اور پیپلز پارٹی نے بجٹ منظورکروانےکے لیےگرین سگنل دے دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان الیکشن میں کامیابی پر صدر زرداری کو مبارک باد دی اور مسکراتے ہوئے کہا کہ نوجوان بلاول نے ہم سے بہتر انتخابی مہم چلائی، جس پر صدر آصف زرداری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا کہ آخر بیٹا کس کا ہے!
یاد رہے کہ وزیرِ اعظم نے گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے کامیاب، پرامن اور شفاف انعقاد پر وہاں کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی تھی۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر ہونے والے عام انتخابات میں اب تک 24 میں سے 22 نشستوں کے مکمل غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آگئے ہیں جب کہ صرف 2حلقوں کے نتائج آنا باقی ہیں، جس کے بعد صورت حال مزید واضح ہوجائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان انتخابات متنازع بن گئے؟ جے یو آئی (ف) نے انتخابی شفافیت پر سنگین سوال اٹھا دیا
غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اب تک 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے سب سے آگے ہے۔آزاد امیدوار 7 نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔
اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) اب تک 4 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے جب کہ مجلس وحدت مسلمین یعنی ایم ڈبلیو ایم کو ایک نشست پر کامیابی ملی ہے۔




