کالعدم ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے کور ممبران شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کے درمیان ہونیوالی ایک مبینہ آڈیو کال لیک ہوگئی
جس میں مختلف علاقوں میں سرگرمیوں، راولاکوٹ کی صورتحال اور سیکیورٹی فورسز کی موجودگی سے متعلق گفتگو سنائی دیتی ہے۔
شوکت نواز میر، خواجہ مہران سے کہتے ہیں کہ میرپور اور مظفرآباد اس وقت تک فعال نہیں ہو سکتے جب تک مناسب تعداد میں لوگ موجود نہ ہوں۔
انہوں نے کہاکہ اگر لوگوں کو لا کر راولاکوٹ، میرپور، کوٹلی یا مظفرآباد میں صرف بٹھا دیا جائے تو اس سے کوئی خاص نتیجہ برآمد نہیں ہوگا،
مزید یہ بھی پڑھیں:مصنوعی ذائقوں کا استعمال،مینگو جوس کمپنیاں بے نقاب، بیماریاں بانٹنے کا انکشاف
شوکت نواز میر کہتے ہیں کہ جب تک راولاکوٹ میں بڑے پیمانے پر کوئی لڑائی یا تصادم شروع نہیں ہوتا، اس وقت تک میرپور اور مظفرآباد میں کچھ نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے خواجہ مہران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کام منظم طریقے سے کیا جائے اور کسی بھی اقدام سے قبل فورسز کی تعداد کا اندازہ لگایا جائے۔
BREAKING: An explosive audio of Awami Action Committee (JAC) leader planning Rawalakot attack leaked. #Pakistan #Kashmir #Hacked #Audio pic.twitter.com/krhxqk40bt
— Mohsin Hassan Khan 🆇 (@mohsinhassan07) June 8, 2026
تاہم راولاکوٹ میں پیش آنے والے واقعے کے باعث لوگ کافی مشتعل ہیں۔
مبینہ آڈیو کے مطابق خواجہ مہران نے جواب دیا کہ فورسز موجود ہیں اور رات کے وقت وہاں پہنچی ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر:9 جون کی کال مسترد،تاجروں کا دکانیں کھلی رکھنے کا اعلان
اس پر شوکت نواز میر نے کہاکہ پہلے صورتحال کا جائزہ لیا جائے، ریکی کی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ کتنے اہلکار موجود ہیں۔
ان کی پوزیشن کیا ہے اور سول کپڑوں میں موجود افراد کس طرح تعینات ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اس کے بعد پروگرام کا فیصلہ کیا جائے اور جذبات میں آ کر کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔
شوکت نواز میر یہ کہتے ہوئے بھی سنائی دیتے ہیں کہ صورتحال کا انحصار اس بات پر ہے کہ لاش کہاں موجود ہے اور راولاکوٹ میں کس نوعیت کا ماحول بنتا ہے۔
ان کے مطابق اگر راولاکوٹ میں مطلوبہ ماحول بن جاتا ہے تو پھر معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں، لیکن اگر وہاں ایسا ماحول پیدا نہیں ہوتا تو ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔




