مصنوعی ذائقوں کا استعمال،مینگو جوس کمپنیاں بے نقاب، بیماریاں بانٹنے کا انکشاف

اسلام آباد( کشمیر ڈیجیٹل)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے اجلاس کے دوران ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ۔

جس میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں جوس بنانے والی کچھ کمپنیاں مبینہ طور پر اصلی آم کے گودے کے بجائے مصنوعی آم کا ذائقہ استعمال کر رہی ہیں۔

سید حسین طارق کی زیر صدارت کمیٹی کے اجلاس میں آم کی پیداوار، جوس کی صنعت، زرعی چیلنجز، کھاد کی قیمتوں اور برآمدی کارکردگی سمیت اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ کے دوران پاکستان مینگو ایسوسی ایشن کے صدر ملک جہانزیب نے قانون سازوں کو بتایا کہ ملک میں آم کی پیداوار میں نمایاں کمی ہو کر تقریباً 180,000 ٹن رہ گئی ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ کئی جوس کمپنیاں اصلی آم کے گودے سے گریز کر رہی ہیں ۔

مصنوعی ذائقوں پر انحصار کر رہی ہیں، یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی مبینہ طور پر حکومت نے 2021 میں اجازت دی تھی۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ مصنوعی ذائقہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے اور پھلوں پر مبنی مشروبات میں اس کے استعمال پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن آزادکشمیر:عام انتخابات 2026 کیلئے ضابطہ اخلاق جاری

کمیٹی کے چیئرمین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی مصنوعات صحت کیلئے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔

جن میں بچوں میں کینسر جیسی بیماریاں بھی شامل ہیں، جبکہ آم کی طلب کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور کسانوں کی آمدنی میں کمی واقع ہوتی ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ اس طرح کے اجزاء کی اجازت دینے والی ریگولیٹری تبدیلیوں کی اجازت کس نے دی؟

سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ اس معاملے کا جائزہ لیا گیا ہے لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بجٹ : پیپلزپارٹی کاسرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں 50 فیصد اضافےکا مطالبہ

انہوں نے سفارش کی کہ متعلقہ حکام جوس کی مصنوعات کا معائنہ اور جانچ کریں اور تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔

کمیٹی نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ پھلوں کے جوس کے معیار اور اجزاء کا جائزہ لے کر ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کی جائے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حکام نے قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ ضوابط کے تحت پھلوں کے جوس میں کم از کم 25 فیصد پھل کا مواد ہونا چاہیے۔

اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ گتے کے ڈبوں کا استعمال کرتے ہوئے برآمدی درجے کے پھلوں کی پیکیجنگ لازمی ہے۔