راولاکوٹ میں سیکیورٹی فورسز نے ایک منظم اور محدود نوعیت کے کامیاب شبانہ آپریشن کے ذریعے سی ایم ایچ ہسپتال کا محاصرہ ختم کروا کر شرپسند عناصر کو مکمل طور پر منتشر کر دیا ہے، جس کے بعد شہر میں تجارتی مراکز اور تمام بند شاہراہیں مقامی معمولات کے مطابق بحال کر دی گئی ہیں۔
ترجمان انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر کے مطابق ہسپتال جیسے حساس ترین مقام پر گوریلا طرز کی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے مریضوں اور طبی عملے کو ڈھال بنانا ایک ایسی ریڈ لائن تھی جس کے بعد ریاستی رٹ کا قیام ناگزیر ہو چکا تھا، اور اب انتشار پھیلانے والے تمام سرغنہ و مسلح کارکنان کے خلاف سخت دہشتگردی کی دفعات کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز کر کے انہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح اور پرتشدد عناصر کی جانب سے امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی سنگین کوشش کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے۔ ترجمان انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر کے مطابق شرپسند عناصر نے ایک سوچی سمجھی اور منظم منصوبہ بندی کے تحت سیکیورٹی فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی اور بعد ازاں سی ایم ایچ (کمپنی باغ اسپتال) راولاکوٹ کا محاصرہ کر لیا، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 7 اور 8 جون کی درمیانی شب ایک نہایت منظم، حکمتِ عملی پر مبنی اور ہدفی (ٹارگٹڈ) کارروائی کے ذریعے کامیابی سے ختم کروا کر ہسپتال کا کنٹرول اور ریاستی رٹ کو مکمل طور پر بحال کروا دیا ہے۔ آزاد کشمیر پولیس کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ اعلامیے کے مطابق 7 جون کی شام کو کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح کارندوں نے راولاکوٹ میں بڑے پیمانے پر پرتشدد کارروائیاں شروع کیں، جس کے دوران ان شرپسندوں نے مختلف مقامات پر سرکاری و نجی املاک کو آگ لگائی اور انہیں شدید نقصان پہنچایا، جبکہ اس دوران سیکیورٹی فورسز پر باقاعدہ پلاننگ کے تحت فائرنگ کی گئی اور پھر سی ایم ایچ راولاکوٹ کو محاصرے میں لے لیا گیا۔ اس حساس ترین ہسپتال کے محاصرے کے باعث وہاں موجود معصوم مریضوں، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی زندگیوں کو شدید ترین خطرات لاحق ہو گئے تھے اور ہسپتال کی معمول کی طبی خدمات اور علاج معالجے کی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی تھیں، جس سے علاقے میں ایک بڑا انسانی المیہ جنم لینے کا سنگین خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف سوشل میڈیا کا گھناؤنا پروپیگنڈا،26 نومبر 2024 کی طرز پر راولاکوٹ کی عوام کو ریاست کیخلاف کرنے کی سازش بے نقاب
صورتحال کی اس انتہائی سنگینی کو بھانپتے ہوئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، بے پناہ تحمل اور اعلیٰ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور 7 اور 8 جون کی درمیانی رات ایک محدود اور انتہائی ٹارگٹڈ آپریشن کا آغاز کیا، جس میں شہریوں، مریضوں اور طبی عملے کے تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی۔ اس کامیاب کارروائی کے نتیجے میں بغیر کسی اضافی سویلین نقصان کے ہسپتال کا محاصرہ ختم کروا لیا گیا اور تمام طبی خدمات اب معمول کے مطابق بحال ہو چکی ہیں جو فورسز کی اعلیٰ تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ترجمان کے مطابق، 6 جون سے لے کر اب تک پرتشدد عناصر کی فائرنگ کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جن میں راولاکوٹ پولیس کے 3 اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کا 1 اہلکار شامل ہے، جبکہ متعدد اہلکار شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، کالعدم ایکشن کمیٹی کے 3 شرپسند اپنی ہی فائرنگ کی زد میں آ کر مارے جا چکے ہیں، جن میں 5 اور 6 جون کی درمیانی رات ہلاک ہونے والے افراد بھی شامل ہیں، جبکہ ان کے متعدد دیگر ساتھی زخمی حالت میں ہیں۔
راولاکوٹ اور آزاد کشمیر کے بعض دیگر علاقوں میں حالیہ کشیدگی کی جڑیں بنیادی طور پر عوامی مطالبات اور بعض کمیٹیوں کے احتجاجی مظاہروں سے جڑی ہیں، اور اگرچہ حکومت نے ماضی میں بجلی کے بلوں اور آٹے پر سبسڈی جیسے اہم عوامی مطالبات تسلیم کیے تھے، تاہم کچھ عناصر نے ان عوامی تحریکوں کا رخ ریاست مخالف اور پرتشدد سرگرمیوں کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے قانون کو ہاتھ میں لینے، گوریلا طرز پر سیکیورٹی فورسز پر ہلاکت خیز حملے کرنے اور سب سے بڑھ کر اسپتال جیسے حساس ترین مقامات کو ڈھال بنانے کی حکمت عملی نے ریاست کو یہ سخت اور فوری ایکشن لینے پر مجبور کیا، کیونکہ سی ایم ایچ کا محاصرہ کرنا ایک ایسی ریڈ لائن (سرخ لکیر) تھی جس کے بعد ریاستی رٹ کو قائم کرنا ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ پبلک سروس اور سول سوسائٹی کو مفلوج ہونے سے بچایا جا سکے۔ یہ کارروائی واضح کرتی ہے کہ حکومت پرامن احتجاج کے حق کو تو تسلیم کرتی ہے لیکن مسلح جتھوں اور انتشار پسندوں کو متوازی حکومت قائم کرنے یا ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہسپتالوں پر حملے اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں کے بعد اب اس کمیٹی کے خلاف قانونی گھیرا مزید تنگ ہوگا اور ان کے سرغنہ و کارکنان کے خلاف سخت دہشتگردی اور جلاؤ گھیراؤ کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
اس وقت انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج پروپیگنڈا وار کا ہے، کیونکہ سوشل میڈیا پر دانستہ طور پر غلط معلومات اور افواہیں پھیلا کر عوام کو اشتعال دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا مقابلہ مستند سرکاری حقائق کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ترجمان آئی جی پی کا کہنا ہے کہ شرپسند عناصر کو اب مکمل طور پر منتشر کیا جا چکا ہے اور راولاکوٹ میں امن و امان بحال ہے، جبکہ شہر کی بیشتر شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں اور بازار و تجارتی مراکز بھی مقامی معمولات کے مطابق فعال ہو چکے ہیں۔ وطن کے شہید بیٹوں کی نمازِ جنازہ جلد ہی پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائے گی۔ آزاد کشمیر پولیس نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ کالعدم ایکشن کمیٹی یا اس سے وابستہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں شرکت سے باز رہیں، افواہوں اور گمراہ کن پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں اور صرف مستند سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں، جبکہ حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں انتشار پھیلانے والے تمام عناصر کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
واضح رہے کہ شہر راولاکوٹ سمیت ریاست بھر میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن اور ریاستی رٹ کی بحالی کے بعد حالات مکمل طور پر معمول کے مطابق ہو چکے ہیں، جہاں عوام نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ مقامی صرافہ بازار، تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز اور دکانیں حسب معمول کھل چکی ہیں اور سڑکوں پر پبلک و نجی ٹریفک کی روانی بھی مکمل طور پر بحال ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہر کے تمام تعلیمی ادارے، اسکول اور سرکاری و نجی دفاتر بھی فعال ہو چکے ہیں جہاں ملازمین اور طلبہ کی حاضری معمول کے مطابق دیکھی جا رہی ہے۔ راولاکوٹ شہر کے تازہ ترین مناظر اور بازاروں کی گہما گہمی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی شہریوں نے کسی بھی قسم کے خوف و خطر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی روزمرہ زندگی کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں اور شرپسند عناصر کے پروپیگنڈے کو یکسر رد کر دیا ہے۔




