اسلام آباد : این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے 7 تا 12 جون کے دوران متوقع موسمی صورتحال اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے پیشگی جائزہ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے جبکہ ہیٹ کی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 7 تا 10 جون کے دوران بالائی خیبرپختونخوا، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور شمالی پنجاب میں بھی گرمی کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ تاہم، 11 سے 12 جون کو اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور شمالی پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور لاہور میں 11 تا 12 جون بارش اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اس کے برعکس پنجاب کے وسطی اور جنوبی اضلاع میں شدید گرمی برقرار رہنے کا امکان ہے جہاں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا، جبکہ کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور تھرپارکر سمیت سندھ کے بیشتر علاقوں میں گرم اور خشک موسم رہنے کی توقع ہے۔ بلوچستان کے شمال مشرقی اضلاع ژوب اور موسیٰ خیل میں 11 تا 12 جون گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان ہے جبکہ صوبے کے میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 7 سے 12 جون ہیٹ ویو : محکمہ موسمیات نے خبردار کر دیا
صوبوں میں بارشوں کا سلسلہ اور گلیشیئرز پگھلنے کے خطرات:
خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، سوات، ملاکنڈ، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور پشاور میں 11 تا 12 جون کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 7 تا 12 جون وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان، بالائی خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور پہاڑی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث تیزی سے پگھلتے گلیشئرز لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے خطرے میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ہنزہ، نگر، گلگت، چلاس، استور، شگر، چترال، کالام، بالائی کوہستان، اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ متوقع ہے، جس کے باعث شگر ویلی روڈ، سکردو روڈ، دیوسائی روڈ اور شاہرائے قراقرم لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہونے کا خدشہ ہے۔ تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز اور گلیشیائی جھیلوں کے ٹوٹنے کے باعث درکوٹ، لاشٹ، ریشن، بونی، بد سوات، شسپر، گلگن، ہنارچی، روشن اور کمراٹ کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ شمالی علاقوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور تیزی سے پگھلتے گلیشئرز کے باعث پہاڑی ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ہے جبکہ ہنزہ، غزر، دیامیر، استور، گھانچے، شگر، چترال، دیر، سوات اور کوہستان کے علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے کی اداروں اور عوام کے لیے اہم ہدایات:
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی اقدامات اور پیشگی تیاری یقینی بنانے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے، جبکہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کو بھی حساس علاقوں میں پیشگی حفاظتی اقدامات تیز کرنے کا کہا گیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق عوام غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں اور خراب موسم میں انتہائی محتاط رہیں۔ پہاڑی علاقوں کے رہائشی اور وہاں موجود سیاح لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش کے خدشات کے پیش نظر لازمی احتیاطی تدابیر اختیار کریں، سیاح موسم کی صورتحال سے باخبر رہیں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
دوسری جانب جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے، اس لیے شہری ضروری احتیاطی تدابیر اپنائیں اور شدید گرمی کے اوقات میں دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔ ادارہ نے ہدایت کی ہے کہ دھوپ میں محنت مزدوری کرنے والے افراد کا خصوصی خیال رکھا جائے اور بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کی ترجیحی بنیادوں پر حفاظت یقینی بنائی جائے۔ عوام مستند معلومات، حفاظتی تدابیر اور آگاہی کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے بھی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔




