احسن اقبال

آزاد کشمیر سے مہاجرین کی نمائندگی کسی صورت ختم نہیں کی جاسکتی : احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ جموں کے مہاجرین نے مسئلہ کشمیرکیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ان کی سیاسی و آئینی نمائندگی کسی بھی صورت ختم نہیں کی جا سکتی ۔

انکا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ نہ صرف ایک غلط فیصلہ ہوگا بلکہ اس سے خطے میں پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنے ، مخالف بیانیے کو تقویت دینے کا تاثر پیدا ہوگا ۔

نارووال میں  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا آزاد کشمیر میں جاری صورت حال اور احتجاجی معاملات پر کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے ریاستی نظام میں واضح اور قانونی راستے موجود ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل پارلیمنٹ، عدالت اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے، اس لیے کسی بھی معاملے کو طاقت یا دباؤ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش درست نہیں ۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں تشدد یا ہجوم کے دباؤ کے ذریعے کسی ایجنڈے کو نافذ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سالانہ ترقیاتی پروگرام ، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے153ارب مختص کئے جائیں گے، احسن اقبال

ان کے مطابق اگر کسی ایک گروہ کے دباؤ کے سامنے ریاست جھک جائے تو اس سے آئندہ مزید گروہ بھی اسی طرز عمل کو اختیار کر سکتے ہیں، جو ریاستی نظام کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے ۔

انہوں نے جموں کے مہاجرین کی حیثیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ بھی اتنے ہی کشمیری ہیں جتنے وادی کشمیر میں رہنے والے افراد ہیں ۔

ان کی قربانیاں اور ان کا تاریخی پس منظر کشمیر کے مسئلے کا اہم حصہ ہے، اس لیے ان کی نمائندگی کو ختم کرنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہوگا۔

احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی اور جمہوری راستوں کو مضبوط کرنا ہی آگے بڑھنے کا واحد حل ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عاصم منیر بھر پور عسکری طاقت سےسرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں : احسن اقبال

ان کے مطابق ریاستی معاملات میں توازن، قانون کی بالادستی اور ادارہ جاتی طریقہ کار کو ترجیح دینا ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی بے چینی یا انتشار سے بچا جا سکے۔