آزادکشمیر میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں ۔ اسی سلسلے میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کمیٹی کے مرکزی دفتر کو سیل کر دیا ۔
پولیس حکام کے مطابق دفتر کی تلاشی کے دوران ایک سب مشین گن، ایک بارہ بور رائفل اور ایک پستول برآمد کیا گیا ۔ حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے اسلحے کو تحویل میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس کے استعمال اور ملکیت سے متعلق حقائق سامنے لائے جا سکیں ۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران مرکزی دفتر کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، تاہم کسی قسم کا احتجاج، ہنگامہ آرائی یا مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی ۔ سکیورٹی اداروں نے علاقے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنےکیلئے اضافی نفری بھی تعینات کی ۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون کی عملداری، ریاستی رٹ کے قیام اور عوامی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے ایسی کارروائیاں ضروری ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ماضی میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو فنڈنگ کون کون کرتارہا، فہرستیں بننا شروع، بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز
بعض ماہرین اور مبصرین نے بھی اسلحے کی مبینہ برآمدگی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی حقوق کے نام پر سرگرم کسی بھی گروہ کے پاس ہتھیاروں کی موجودگی سنجیدہ معاملہ ہے، جس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں ۔
دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چودھری نے اسلام آباد میں سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر میں بعض عناصر انتخابی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات حکومت پہلے ہی تسلیم کر چکی ہے اور ان پر عملدرآمد بھی کیا گیا ہے ۔ طارق فضل چوہدری کے مطابق آزادکشمیر میں بجلی رعایتی نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہے جبکہ آٹے سمیت مختلف ضروری اشیائے خور و نوش پر بھی سبسڈی دی جا رہی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ڈھل چیک پوسٹ واقعہ: تمام اہلکار بازیاب؛ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کے خلاف گھیرا تنگ
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مذاکرات کیلئے خصوصی کمیٹی اور معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے الگ نگراں کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی، جس نے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں ۔




