مذاکرات

حکومت کو بجٹ سے پہلے بڑا چیلنج ، پیپلزپارٹی سے مذاکرات آج ہونگے

وفاقی بجٹ سے قبل حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اہم مذاکرات آج ہوگے، جس میں بجٹ سے متعلق معاملات، مالی وسائل اور صوبوں کے ساتھ فنڈز کی تقسیم سمیت مختلف امور زیر غور آئیں گے ۔

ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک وفد حکومتی نمائندوں سے ملاقات کرے گا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد سے ملاقات سے قبل صدر آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مشاورتی اجلاس کریں گے، جس میں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینیٹر شیری رحمان اور سینئر رہنما نوید قمر شریک ہوں گے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بجٹ 10جون کو پیش ہوگا،ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں اتفاق

اس اجلاس میں بجٹ سے متعلق پارٹی مؤقف اور حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے اندرونی مشاورتی اجلاس کے بعد حکومتی وفد کے ساتھ باضابطہ ملاقات کا وقت طے کیا جائے گا ۔

ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں سے تقریباً 1700 ارب روپے کے فنڈز کا تقاضا کیا جا رہا ہے، جس پر مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے ۔

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کی تیاری ایک مخصوص مالی ہدف کے گرد گھوم رہی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے وسائل کی دستیابی انتہائی ضروری ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بجٹ2026-27:مزدوروں کی ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

ان کا کہنا تھا کہ جب تک مطلوبہ وسائل کا بندوبست نہیں ہو جاتا، بجٹ سازی کے عمل میں مشکلات برقرار رہ سکتی ہیں ۔ رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ حکومت کو اُمید ہے کہ پیپلز پارٹی کیساتھ جاری مشاورت مثبت سمت میں آگے بڑھے گی اور دونوں فریق بجٹ سے متعلق اہم معاملات پر کسی مشترکہ نتیجے تک پہنچ جائیں گے ۔