حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باوجود پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل اب بھی غریب عوام کی پہنچ سے دور ہیں، جبکہ شہریوں پر لیوی ٹیکس کا بھاری اضافی بوجھ بدستور برقرار ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 36 دنوں کے طویل عرصے کے دوران حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر تین بار اضافہ اور تین بار کمی کی ہے۔ مسلسل اتار چڑھاؤ کے اس عمل کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں پانچ ہفتے قبل کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہیں، جس کے باعث مہنگائی سے متاثرہ شہریوں کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں مل سکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی : گڈز ٹرانسپورٹ کرایوں میں 6 فیصد کمی
دستیاب سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ 36 دنوں کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 61 روپے 16 پیسے فی لیٹر کا بھاری اضافہ کیا گیا تھا۔ اگرچہ بعد میں عوام کو ریلیف دینے کے نام پر اس قیمت میں 33 روپے 80 پیسے کی کمی بھی کی گئی، لیکن اس حالیہ کمی کے باوجود ڈیزل کی قیمت پر 27 روپے 36 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ اب بھی مارکیٹ میں برقرار ہے جس کا بوجھ صارفین اٹھا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قیمتوں میں معمولی ردوبدل کے باوجود شہریوں پر عائد پیٹرولیم لیوی کا اضافی بوجھ ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔ حکومت کی جانب سے لیوی ٹیکس کی شرح برقرار رکھنے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اپنی اصل سطح پر واپس نہیں آ پا رہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ رہے ہیں بلکہ عام شہری بھی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔



