دلیہ بیچ کر حج کا خواب پورا کرنے والی 104 سالہ انڈونیشین خاتون مکہ پہنچ گئیں

انڈونیشیا کے صوبہ مشرقی جاوا کے شہر کیدری کی رہائشی مباح مرسیہ رواں سال فریضۂ حج کی سعادت حاصل کرنے والی سب سے معمر حاجی بن گئی ہیں۔ 104 سالہ معمر خاتون اس برس حج کی سعادت حاصل کرنے والے دو لاکھ 21 ہزار انڈونیشین عازمینِ حج کے قافلے میں شامل تھیں، جنہوں نے طویل جدوجہد کے بعد مکہ مکرمہ پہنچنے کا اعزاز حاصل کیا۔

مباح مرسیہ نے بیت اللہ کی زیارت کا خواب پورا کرنے اور سعودی عرب کے مقدس سفر پر روانگی کے لیے کئی برسوں تک پائی پائی جوڑی۔ انہوں نے پہلی مرتبہ 2021 میں حج کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن کروائی تھی۔ حج میڈیا سینٹر میں گفتگو کرتے ہوئے معمر خاتون کا کہنا تھا کہ وہ دلیہ فروخت کرتی ہیں اور اس سے ہونے والی تھوڑی بہت کمائی سے بچت کرتی رہی تھیں، جبکہ رقم کی کمی بیشی کو ان کا بیٹا پورا کر دیتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سابق کپتان وسیم اکرم کی حج سے متعلق قیاس آرائیوں پر وضاحت جاری

معمر خاتون نے بتایا کہ وہ دلیہ بیچ کر ایک ڈبے میں پیسے جمع کرتی رہیں اور آخر کار اتنی رقم اکٹھی ہو گئی کہ وہ حج کی رجسٹریشن کروا سکیں۔ انہوں نے اس خواہش اور بچت کے بارے میں طویل عرصے تک اپنے قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں سمیت کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ تاہم، جب حج کے لیے کافی حد تک رقم جمع ہو گئی تو انہوں نے اپنے ارد گرد کے لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کیا۔

یکم جولائی 1921 کو پیدا ہونے والی مباح مرسیہ اب بھی چھڑی کے سہارے آہستہ آہستہ چل سکتی ہیں، تاہم مناسکِ حج کے دوران انہوں نے زیادہ تر ویل چیئر کا استعمال کیا۔ وہ جمعہ 22 مئی کی صبح اپنی 67 سالہ بیٹی موئیدہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ پہنچیں۔ انڈونیشین گروپ کے سربراہ نے حج کے دوسرے دن تصدیق کی کہ معمر خاتون کی صحت بالکل اچھی ہے اور وہ حج کے تمام مناسک میں حصہ لینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

مزید پڑھیں: اذان سے متاثر ہونیوالانومسلم نوجوان حج کرنے مکہ مکرمہ پہنچ گیا