امریکہ اور ایران معاہدے کے انتہائی قریب، اچھی ڈیل نہ ہوئی تو دوبارہ فوجی آپریشن کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک نئے معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم حتمی ڈیل کے حصول کے لیے وہ کسی قسم کی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کریں گے تاکہ ملکی مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک ایک نئے معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ نہ صرف مستقبل میں ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا بلکہ وہ ایٹم بم خریدے گا بھی نہیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ جو کچھ چاہتے ہیں وہ ایران سے حاصل کر رہے ہیں اور اس وقت تمام تر پتے امریکہ ہی کے پاس موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سچویشن روم اجلاس، ٹرمپ ایران جنگ سے متعلق فیصلہ نہ کر سکے

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں ڈیل کے قریب ہونے کا مژدہ سنایا، وہاں ایران کو سخت الفاظ میں خبردار بھی کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان ایک جامع اور اچھی ڈیل طے نہ پائی تو امریکہ کے پاس فوجی آپشن اب بھی موجود ہے۔ صدر ٹرمپ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اطمینان بخش معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف دوبارہ فوجی آپریشن شروع کر دیا جائے گا، کیونکہ وہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور جلد بازی میں کوئی بھی غلط فیصلہ نہیں کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایران نے متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور سعودی عرب جیسے اہم ممالک پر حملے کیے۔ انہوں نے جمعے کو آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے اپنے پچھلے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے اب نیا موقف اختیار کیا ہے کہ جیسے ہی دونوں ممالک کے مابین حتمی ڈیل پر باقاعدہ دستخط ہوں گے، اس کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔

امریکی صدر نے ایرانی افواج کی موجودہ حالت زار پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت اسٹریٹجک اور دفاعی لحاظ سے انتہائی بری پوزیشن میں کھڑا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی اقدامات کے باعث ایران کی فوج، نیوی اور فضائیہ کا مکمل صفایا کیا جا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس معاملے میں کسی جلدی میں نہیں ہیں کیونکہ اگر جلدی کی گئی تو ایک بہترین اور پائیدار ڈیل کا اصول ناممکن ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان