مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان بڑی بیٹھک سج گئی۔ مذاکرات میں مختلف عوامی مطالبات اور سابقہ معاہدے پر عملدرآمد کے معاملات زیر بحث ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ معاہدے پر عملدرآمد کے لیے حکومت کو 31 مئی تک کی ڈیڈ لائن دی جا چکی ہے اور مقررہ مدت کے اندر عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
ذرائع کے مطابق مہاجرین نشستوں سے متعلق اہم معاملہ طے پا گیا جبکہ دیگر مطالبات پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے مظفرآباد کے سینئر صحافی وقاص کاظمی نے کشمیر ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بڑی خبر دیتے ہوئے کہا کہ مہاجرین نشستوں کے حوالے سے اہم معاملہ طے پاگیا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اذان سے متاثر ہونیوالا نومسلم نوجوان حج کرنے مکہ مکرمہ پہنچ گیا
سینئر صحافی وقاص کاظمی کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی بارہ نشستوں کے حوالے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ۔ گزشتہ دو گھنٹے سے ہونیوالی بیٹھک میں یہ طے پاچکا ہے کہ بارہ نشستوں کا معاملہ جڑ سے ہی ختم کیا جائے گا۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے اس حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران کو گرین سگنل دیدیا ہے ۔ اور کہا کہ اس سے آگے بڑھیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی اب ان بارہ نشستوں سے آگے بڑھ رہی ہے جس میں دیگر چارٹر آف ڈیمانڈ شامل ہیں
صحافی وقاص کاظمی کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں انتخابی اصلاحات کا معاملہ۔مہاجرین کی بارہ نشستوں کے خاتمے کا معاملہ ہے یہ حتمی تو نہیں مگر ذرائع کے مطابق معاملات آگے بڑھ رہے ہیں اور اگر بارہ مہاجرین نشستوں کے خاتمے کا فیصلہ ہوا تو دیگر مطالبات میں عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے لچک دکھائی جاسکتی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نئے شامل ہونیوالے کو ٹکٹ ملنے پر حمایت نہیں کرینگے، ن لیگی رہنما کھاوڑہ
سیاسی و عوامی حلقوں کی نظریںاس وقت مظفرآباد میں ہونیوالے حکومتی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونیوالے مذاکرات پر مرکوز ہیں جبکہ دونوں فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا۔
کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مہاجرین نشستوں کے خاتمے سمیت معاہدے کے دیگر تمام نکات پر بھی مکمل اور فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی رہنماؤں کے مطابق عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل ہی موجودہ مذاکرات کی کامیابی کا اصل معیار ہوگی۔




