امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مبینہ ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے اور امریکی بحری جہازوں کو واپسی کا عمل شروع کرنے کی اجازت مل گئی ہے ۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس بات پر آمادہ ہونا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا ایٹمی بم حاصل نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جانا ضروری ہے ۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنصیبات ماضی میں کیے گئے حملوں کے نتیجے میں شدید نقصان کا شکار ہو چکی ہیں اور یہ مواد پہاڑوں کے نیچے گہرائی میں دفن ہو چکا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے پاس اس مسئلے کے حل کیلئے تکنیکی صلاحیت موجود ہےاور یہ کام ایران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے تعاون سے کیا جا سکتا ہے تاکہ مواد کو نکال کرتباہ کیا جا سکے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران کا60روزہ جنگ بندی معاہدہ تیار ،ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی میڈیا
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ کئی دیگر معاملات پر بھی پیش رفت ہوئی ہے اور وہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سچویشن روم میں اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ طور پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں اور باقی ماندہ خطرات کو بھی جلد ختم کیا جائے گا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ بحری آمدورفت کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے پر اتفاق کیا جا رہا ہے اور اس میں کسی قسم کا ٹول ٹیکس شامل نہیں ہوگا ۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض تکنیکی اور سکیورٹی امور پر مزید مشاورت جاری رہے گی اور آئندہ دنوں میں حتمی فیصلوں کا اعلان متوقع ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کی عمان کو دھمکی پرایران کا سخت ردعمل، انتباہ دیدیا
بین الاقوامی اداروں کو بھی اس عمل میں شامل رکھنے کی بات کی گئی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور بحری راستوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے بتایا گیا ہے ۔




