محکمہ صحت عامہ آزادکشمیر میں مبینہ غیر قانونی اور غیر آئینی بھرتیوں کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے اور اب یہ تنازع ہائی کورٹ تک پہنچ چکا ہے ۔
71 آسامیوں کے مقابلے میں 141 سے زائد میڈیکل آفیسرز کی تعیناتی پر سنگین اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جس کے بعد ان تقرریوں کو ہائی کورٹ میں باضابطہ طور پر چیلنج کر دیا گیا ہے ۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ تمام بھرتیاں ایک ہی نوٹیفکیشن کے تحت جاری کی گئیں اوراس عمل میں محکمہ جاتی قواعد و ضوابط اور رولز آف بزنس کی مبینہ طور پر سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ہائی کورٹ آزاد کشمیر کا محکمہ فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ میں عارضی تقرریوں پر حکم امتناعی جاری
رٹ پٹیشن میں مجموعی طور پر 149 فریقین کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں وہ ڈاکٹرز بھی شامل ہیں جنہیں مبینہ طور پر قواعد کے برعکس تعینات کیا گیا ۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض تقرریاں مبینہ طور پر غیر ریاستی افراد کو بھی دی گئیں جبکہ کئی کیسز میں خاندانی اثر و رسوخ اور سفارشات کے استعمال کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں ۔
اسی نوٹیفکیشن کے تحت مزید تقرریوں کا سلسلہ جاری رہنے پر بھی قانونی ماہرین نے سوالات اٹھائے ہیں ۔ درخواست گزاروں کے مطابق اگر یہ بھرتیاں اسی طریقہ کار کے تحت برقرار رہیں تو نہ صرف میرٹ کا نظام متاثر ہوگا بلکہ سرکاری اداروں میں شفافیت اور ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچے گا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، تمام سرکاری محکموں کے چیلنج شدہ اشتہارات معطل
عدالت عالیہ نے کیس کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے آئندہ تاریخ پر مزید دلائل طلب کر لیے ہیں۔ یہ کیس آئندہ سماعت کے لیے عدالت میں زیر غور آئے گا ۔




