آزاد جموں و کشمیر سروس ٹربیونل نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اِن لینڈ ریونیو، ایف بی آر/اے جے کے سی بی آر اظہر حسین پر جعلی اور متضاد مؤقف اختیار کرنے کی پاداش میں ایک لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہےجس کے بعد اپیل کنندہ کے طرزِ عمل کو قانونی عمل کا غلط استعمال قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست کو مکمل طور پر خارج کر دیا ہے۔
کیس کے حقائق کے مطابق اظہر حسین کو پہلے ڈپٹی کمشنر اِن لینڈ ریونیو، انچارج سرکل 08 بھمبر کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ بعد ازاں متعلقہ ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے 19 مئی 2026 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے انہیں بھمبر سے واپس بورڈ آف ریونیو/اے جے کے سی بی آر مظفرآباد اٹیچ کر دیا تھا جس کے خلاف انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آوارہ کتوں کو تلف کرنے پر پابندی عائد، عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
اظہر حسین نے اٹیچمنٹ کے اس نوٹیفکیشن کو سروس ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا تاہم عدالتی ریکارڈ کی چھان بین سے یہ سنسنی خیز بات سامنے آئی کہ وہ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے معاملے میں ایک اور اپیل دائر کر چکے تھے اور بعد میں اسے واپس لے لیا تھا۔ ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اپیل کنندہ نے ایک ہی معاملے پر دوبارہ اپیل دائر کر کے قانونی عمل کا سنگین غلط استعمال کیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر لکھا کہ کسی بھی سرکاری ملازم کی تعیناتی اور تبادلہ خالصتاً ایک انتظامی معاملہ ہوتا ہے جبکہ اپیل کنندہ عدالت کے سامنے بیک وقت دو متضاد مؤقف اختیار نہیں کر سکتا۔ سروس ٹربیونل نے ان تمام حقائق کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر اظہر حسین کی اپیل کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
مزید پڑھیں: ہائی کورٹ؛ حکومت کو 10 روز میں بینک آف آزاد جموں و کشمیر کے صدر کی مستقل تعیناتی کی ہدایت
سروس ٹربیونل نے اظہر حسین پر جو ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے اس کے بارے میں فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ رقم لازمی طور پر سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔ اس عدالتی فیصلے کے فوری بعد اظہر حسین کو دوبارہ او ایس ڈی اور اٹیچمنٹ کی حیثیت میں واپس بورڈ آف ریونیو بھیج دیا گیا ہے۔




