مقدس مقامات پر “لبیک اللہم لبیک” کی روح پرور اور ایمان افروز صداؤں کی گونج میں مناسکِ حج کا سلسلہ عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں فرزندانِ اسلام خیموں کے شہر منیٰ میں رات قیام کے بعد حج کا سب سے اعظم رکن “وقوفِ عرفہ” ادا کرنے کے لیے میدانِ عرفات روانہ ہو گئے ہیں۔
حج 2026 کے اس مقدس موقع پر مسجد نبوی کے معزز امام اور خطیب ڈاکٹر شیخ علی الحذیفی میدانِ عرفات کی تاریخی مسجدِ نمیرہ سے خطبہ حج دیں گے، جسے دنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں کے لیے مختلف زبانوں میں براہِ راست نشر کیا جائے گا۔ خطبہ حج کے بعد تمام حجاجِ کرام میدانِ عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں قصر کر کے ایک ساتھ (جمع بین الصلاتین) ادا کریں گے اور غروبِ آفتاب تک یہاں گریہ و زاری، استغفار اور دعاؤں میں مصروف رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مناسک حج کا آغاز، لاکھوں عازمین خیموں کے شہر منیٰ پہنچنا شروع
غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ روانگی اور رات کا قیام:
میدانِ عرفات میں وقوف مکمل کرنے کے بعد، جیسے ہی سورج غروب ہوگا، تمام حجاجِ کرام کسی تاخیر کے بغیر مزدلفہ کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ مزدلفہ پہنچنے کے بعد حجاج مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر ایک ساتھ ادا کریں گے اور پھر کھلے آسمان تلے رات گزاریں گے۔ حجاجِ کرام مزدلفہ کی اسی رات عبادت کے ساتھ ساتھ اگلے دن کی رمي الجمار (شیطان کو کنکریاں مارنے) کے لیے کنکریاں بھی جمع کریں گے۔
حجاج کی تعداد اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات:
ایک محتاط اور سرکاری اندازے کے مطابق، اس سال حج 2026 کے دوران دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے تقریباً 20 لاکھ تک حجاجِ کرام کی ارضِ مقدس پر موجودگی متوقع ہے۔ اس جمِ غفیر کو سنبھالنے اور عازمین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے سعودی حکومت کی جانب سے میدانِ عرفات اور دیگر مقامات کو مکمل طور پر جدید ترین تکنیکی سہولیات، میڈیکل کیمپس اور فول پروف سیکیورٹی انتظامات سے آراستہ کر دیا گیا ہے۔




