صوبائی دارالحکومت مظفرآباد کے غیور شہری دریائے نیلم کے خوبصورت کنارے پر قائم خواتین پارک کو کچرا کنڈی میں تبدیل کرنے کے خلاف ہنگامی طور پر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ شدید عوامی احتجاج کے دوران غصے میں آئے مظاہرین نے پارک کا مرکزی گیٹ مکمل طور پر بند کر کے بلدیہ کے خلاف نعرے بازی کی ہے۔
مظاہرین نے بلدیہ مظفرآباد اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف سخت ترین رویہ اختیار کرتے ہوئے ایک کھلا اور حتمی الٹی میٹم جاری کیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ شہر بھر سے لا کر یہاں جمع کیا جانے والا کچرا فوری طور پر یہاں سے اٹھایا جائے اور اسے پہلے سے طے شدہ مخصوص کچرا کنڈی کے مقام پر منتقل کیا جائے، بصورتِ دیگر اس مقامی احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر کے اسے ایک منظم شہر گیر تحریک میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد گوجرہ :ایمز کالج کے پرنسپل حمزہ برہان قتل، پولیس نے قاتل کو گرفتار کر لیا
شہریوں نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی نااہلی نے دریائے نیلم کے انتہائی حسین کنارے، خواتین پارک اور اس کے آس پاس کی گنجان رہائشی آبادی کو بدترین گندگی، شدید تعفن اور خطرناک بیماریوں کی آماجگاہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ پارک میں کچرا پھینکنے کی وجہ سے ہر وقت پھیلی رہنے والی شدید بدبو کے باعث مقامی شہریوں کا جینا محال اور دوبھر ہو چکا ہے جبکہ معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں کی صحت کو بھی سنگین اور شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
مظاہرین نے واشگاف الفاظ میں یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر بلدیہ مظفرآباد کی گاڑیوں نے دوبارہ کبھی بھی اس خواتین پارک کے اندر کچرا پھینکنے کی ذرا سی بھی کوشش کی، تو شہری اپنی مدد آپ کے تحت انہیں پارک کی حدود میں ہرگز داخل نہیں ہونے دیں گے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران پیدا ہونے والی کسی بھی قسم کی کشیدگی اور تمام تر خراب صورتحال کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست بلدیہ مظفرآباد اور ضلعی انتظامیہ کے سر پر عائد ہوگی۔




