باغ(کشمیر ڈیجیٹل)خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک متوازن سوچ کو لیکر آگے بڑھنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار جمیلہ خاتون مرکزی سیکرٹری اطلاعات ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان آزاد کشمیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو جو 1400سال قبل حقوق دیئے۔ہم ان پر عمل پیرا نہیں ہورہے ہیں ۔
کیا والدین اور بھائیوں کی طرح سے جائیداد میں حقوق دیئے جاتے ہیں ؟۔تو اس سوال کا جواب منفی میں ہی ملتا ہے۔ہمیں سچائی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے ۔مغرب سے جو خواتین کے حقوق کی آواز اٹھی ۔اس آواز کی بدولت مغرب میں خواتین کو بہت سے حقوق ملے ۔جس کی ایک لمبی تاریخ ہے۔
ہم آج کے دن ان تمام خواتین کو سلام پیش کرتے ہیں ۔جنہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے جدو جہد کی۔پاکستان اور آزاد کشمیر کے اندر بھی خواتین کے حقوق کے حوالے سے قوانین موجود ہیں ۔لیکن ان پر عمل نہیں ہورہا ہے۔خواتین کیلئے علیحدہ پولیس سٹیشن ہونے چاہیے۔آزاد کشمیر میں آئے دن مختلف محکموں میں خواتین درخواست دہندگان کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔
اس حوالے سے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری طرف سوشل میڈیا کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہاں خواتین کی حراسگی میں بھی اس کا اس کا استعمال بڑھ رہا ہے.حکومت کو اس حوالے سے بھی قانون سازی کرنا ہوگئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان آزاد کشمیر انسانی حقوق اور خصوصاً خواتین کے حقوق کے حوالے سے عملی میدان میں کام کررہی ہے۔ہمارے اس پلیٹ فارم میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی شامل ہیں
ہر ضلع کی سطح پر سیٹ اپ موجود ہے۔جہاں پر شکایت کی صورت میں ہر ممکنہ مدد کی جاتی ہے۔ہمارے اس فورم میں دیگر شعبوں کے میل فیمل کی طرح وکلاء بھی موجود ہیں ۔جو ہر متاثرہ فرد کیلئے قانونی جنگ بھی لڑتے ہیں ۔
خواتین کے حقوق کی آگاہی کیلئے اس امر کی ضرورت ہیکہ سیمینار ،ریلیز اور جلسوں کا اہتمام ہو۔لیکن دوسری طرف ہمیں ایسے غیر ضروری نعروں اور سلوگن سے بھی بچنا ہو گا ۔اس موقع پر میں ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان آزاد کشمیر کے صدر اشتیاق قریشی اور تمام عہدیداروں کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے خواتین کے حقوق کے حوالے ہمیشہ ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے۔
فیسوں میں اضافے کیخلاف جامعہ کشمیر کے طلبا کا احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج، متعدد زخمی




