پاکستان میں موبائل فونز کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 ماہ کے دوران ملک میں موبائل فونز کی درآمدات 1 ارب 62 کروڑ امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں ۔
یہ اضافہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 29 فیصد زیادہ ہے، جب درآمدات کا حجم 1 ارب 25 کروڑ ڈالر تھا ۔
اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں موبائل فونز کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے اور صارفین کی بڑی تعداد اب بھی درآمدی ڈیوائسز پر انحصار کر رہی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق صرف اپریل کے مہینے میں موبائل فونز کی درآمدات 176 ملین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 19 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:50 ہزار میں بہترین موبائل فونز کی فہرست سامنے آ گئی
سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو یہ اضافہ 41 فیصد تک پہنچ جاتا ہے، جو مارکیٹ میں سرگرمی اور طلب میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے ۔
روپے کی قدر کے اعتبار سے بھی موبائل فونز کی مجموعی درآمدات بڑھ کر تقریباً 455 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ حجم 349 ارب روپے تھا ۔
دوسری جانب ملک میں موبائل فونز کی مقامی سطح پر اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی ترقی دیکھی جا رہی ہے۔ مقامی صنعت نے پیداوار میں اضافہ کرتے ہوئے درآمدی دباؤ کو کسی حد تک کم کرنے کی کوشش کی ہے ۔
مارچ 2026 کے دوران 27 لاکھ سے زائد موبائل فونز مقامی سطح پر تیار یا اسمبل کیے گئے۔ اسی طرح 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی پیداوار 73 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے ۔
مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں موبائل فون کی طلب اور رسد دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی بجٹ میں موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس کم کرنے کی تجویز
ایک طرف درآمدات بڑھ رہی ہیں تو دوسری طرف مقامی صنعت بھی بتدریج ترقی کر رہی ہے، تاہم درآمدات کا حجم اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے ۔




