سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے بنگلا دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی وائٹ واش شکست کے بعد قومی ٹیم کی کارکردگی اور اندرونی نظم و ضبط پر شدید ردعمل دیا ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سابق کپتان یونس خان وہ واحد شخصیت ہیں جو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو درست سمت میں لے جا سکتے ہیں اور انہیں ڈسپلن سکھا سکتے ہیں ۔
باسط علی کے مطابق “سیدھا کرنے” سے ان کی مراد کھلاڑیوں کو سخت نظم و ضبط کا پابند بنانا ہے، کیونکہ ان کے خیال میں موجودہ کھلاڑی نرم رویے سے بہتر نہیں ہو رہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بابر اعظم کو کبھی بھی چوتھے نمبر پر نہیں کھلانا چاہیے : باسط علی
انہوں نے کہا کہ ٹیم کے اندر سنجیدگی اور ذمہ داری کا فقدان ہے اور کھلاڑی اپنی حدود میں نہیں رہ رہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی ٹیم میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کھلاڑیوں کے مختلف گروہ اور اثر و رسوخ نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیم ایک متحد یونٹ کے طور پر کام نہیں کر پا رہی ۔
ان کے مطابق ایک ہی ٹیم میں کئی غیر رسمی قیادتیں موجود ہیں، جس سے ماحول متاثر ہو رہا ہے اور کارکردگی میں تسلسل نہیں رہتا۔دوسری جانب ٹیسٹ کپتان شان مسعود نے شکست کے بعد اپنی رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیم نے اہم مواقع پر کئی غلطیاں کیں ۔
ان کے مطابق بیٹرز بڑی اننگز کو بڑے اسکور میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے جبکہ بولرز نے بھی مطلوبہ نظم و ضبط برقرار نہیں رکھا۔ شان مسعود نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پہلی تین اننگز میں کی جانے والی غلطیوں نے میچ کا رخ پاکستان کے خلاف کر دیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:باسط علی کا ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی حالیہ پریس کانفرنس پر سخت ردعمل
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ چوتھی اننگز میں ٹیم نے تقریباً 360 رنز کا ہدف دیا تھا لیکن ابتدائی غلطیوں کی وجہ سے میچ جیتنے کی پوزیشن نہیں بن سکی ۔



