ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مابین جاری طویل تنازعہ یکسو کرتے ہوئے سانگو ٹریولز کے ضلع نیلم میں قائم اڈے کو بدستور برقرار رکھنے کا بڑا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے ممکنہ مداخلت کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے کمپنی کو سروس جاری رکھنے کی قانونی اجازت دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سانگو ٹریولز نامی ٹرانسپورٹ کمپنی نے ضلع نیلم میں عوامی سفری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اپنی باقاعدہ ٹرانسپورٹ سروس کا آغاز کیا تھا اور اس سلسلے میں جیل کے مقام پر اپنا ایک اڈہ قائم کیا تھا۔ اس اڈے کے قیام کے خلاف دیگر مسابقتی ٹرانسپورٹ فریقین نے ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد متعلقہ فریقین کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جسے بعد ازاں سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں چیلنج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، تمام سرکاری محکموں کے چیلنج شدہ اشتہارات معطل
سپریم کورٹ نے معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پورا معاملہ سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو بھجوایا اور ہدایت جاری کی کہ موقع کا خود معائنہ کر کے میرٹ پر حتمی فیصلہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے موقع ملاحظہ کیا اور تمام متعلقہ ریکارڈ کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی۔ اس کے بعد انہوں نے سانگو ٹریولز کی سروس اور وہاں قائم کردہ اڈے کو قانونی و عوامی سفری سہولت کے لحاظ سے مکمل تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اڈے کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کا فیصلہ صادر کیا۔
سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے فیصلے کے بعد، اڈے کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی، مسماری یا مخالف فریقین کی جانب سے مداخلت کے خدشے کے پیشِ نظر سانگو ٹریولز کی جانب سے دوبارہ ہائی کورٹ میں درخواستِ حکمِ امتناعی دائر کی گئی۔ عدالت عالیہ نے وکلاء کے دلائل اور بورڈ آف ریونیو کے فیصلے کے ریکارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے سانگو ٹریولز کی درخواست منظور کر لی اور حکمِ امتناعی (اسٹے آرڈر) جاری کر دیا۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل کے دورہ تہران سے متعلق سوشل میڈیا پر بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب، خبریں جعلی نکلیں
عدالت عالیہ کے اس حتمی فیصلے اور حکمِ امتناعی کے اجراء کے بعد اب ضلع نیلم کے جیل کے مقام پر قائم سانگو ٹریولز کا ٹرانسپورٹ اڈہ بدستور مکمل طور پر فعال رہے گا اور ان کی سروسز جاری رہیں گی۔ اس فیصلے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مابین جاری طویل ترین قانونی تنازعے کا خاتمہ ہوا ہے بلکہ علاقے کے مسافروں کے لیے بھی سفری سہولیات کی بلاتعطل فراہمی یقینی ہو گئی ہے۔




