آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، تمام سرکاری محکموں کے چیلنج شدہ اشتہارات معطل

ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے ڈویژن بینچ نے مختلف سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے لیے جاری کردہ اشتہارات کے خلاف دائر 34 رٹ پٹیشنوں پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے تمام چیلنج شدہ اشتہارات معطل کر دیے ہیں۔ قائم مقام چیف جسٹس سید شاہد بہار اور جسٹس سردار محمد اعجاز خان پر مشتمل بینچ نے محکموں کو مروجہ قواعد کے مطابق نئے اشتہارات جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

مظفرآباد میں ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے قائم مقام چیف جسٹس، جسٹس سید شاہد بہار اور جج ہائی کورٹ جسٹس سردار محمد اعجاز خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے مختلف سرکاری محکمہ جات میں خالی آسامیوں کے اشتہارات کو چیلنج کرنے سے متعلق مجموعی طور پر 34 اہم رٹ پٹیشنوں کی تفصیلی سماعت کی۔ ان زیرِ سماعت مقدمات میں محکمہ صحت، تعلیم، جنگلات، فشریز، تعمیرات عامہ شاہرات، برقیات، زراعت، لوکل گورنمنٹ، اطلاعات اور قانون سمیت دیگر تمام اہم محکمہ جات کے چیلنج کردہ اشتہارات شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ہائی کورٹ کا بڑا حکم! مختلف محکموں میں بھرتیوں کا عمل عارضی طور پر معطل

سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے محکموں میں بھرتیوں کے مروجہ طریقہ کار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ متعلقہ محکمہ جات اشتہارات جاری کرتے وقت رولز اور قواعد و ضوابط کو بالکل مدنظر نہیں رکھتے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اکثر اشتہارات میں درخواستوں کی وصولی کے لیے واضح تاریخوں کا تعین ہی نہیں کیا جاتا، یا پھر امیدواروں کو اپلائی کرنے کے لیے انتہائی کم وقت دیا جاتا ہے۔ اس غیر پیشہ ورانہ انداز کے باعث مستقل ابہام پیدا ہوتا ہے اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے غریب امیدواروں کو شدید مشکلات کے ساتھ ساتھ غیر ضروری سفری اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

بے روزگاری کا مسئلہ اور محکموں کے لیگل ایڈوائزرز پر برہمی:

ڈویژن بینچ نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں بے روزگاری پہلے ہی ایک انتہائی سنگین اور حساس مسئلہ بن چکی ہے۔ عدالت عالیہ بھرتیوں کے اس عمل میں کوئی رکاوٹ ڈالنا نہیں چاہتی، تاہم قواعد و ضوابط سے ہٹ کر کیے جانے والے اقدامات نہ صرف سنگین قانونی پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں بلکہ بھرتیوں کے پورے پراسیس میں غیر ضروری اور طویل تاخیر کا سبب بھی بنتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ میرٹ اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

عدالت عالیہ نے مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران اس امر پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا کہ مختلف سرکاری محکمہ جات کے لیگل ایڈوائزر ایڈمٹ شدہ رٹ پٹیشنوں میں بروقت جواب دعویٰ جمع کروانے میں مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔ کئی اہم کیسز میں حکمِ امتناعی (اسٹے آرڈر) جاری ہونے کے باوجود محکموں کی طرف سے عدالت سے مسلسل مزید مہلت طلب کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف عدالتی کارروائی بری طرح متاثر ہوتی ہے بلکہ سائلین کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: ہوا میں لکڑنیلامی کا تہلکہ خیز انکشاف،ہائیکورٹ کا غیرقانونی نیلامی روکنے کا حکم

چیلنج شدہ اشتہارات معطل اور نئے اشتہارات کا حکم:

کیس کی تفصیلی سماعت اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد، ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے تمام چیلنج شدہ سرکاری اشتہارات کو فوری طور پر معطل کرنے کا بڑا حکم جاری کر دیا۔ عدالت عالیہ نے تمام متعلقہ محکمہ جات کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ مروجہ قواعد و ضوابط اور رولز کے مطابق نئے اور ترمیم شدہ اشتہارات دوبارہ جاری کریں تاکہ آزاد کشمیر میں سرکاری ملازمتوں پر بھرتیوں کا پورا عمل مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور قانونی تقاضوں کے عین مطابق مکمل کیا جا سکے۔