سوشل میڈیا پر فیلڈ مارشل کے تہران دورے سے متعلق بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس کی جانب سے پھیلائی جانے والی خبریں مکمل طور پر جعلی اور بے بنیاد ثابت ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری سطح پر ایسی کسی بھی مہم یا دورے کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی اور صارفین کو گمراہ کن پوسٹس سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
خطے کی حساس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی پروپیگنڈا فیکٹریاں ایک بار پھر سے سرگرم ہو گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھارتی نیٹ ورک کے ایک جعلی اکاؤنٹ “برکس نیوز” کی طرف سے یہ جھوٹی اور من گھڑت خبر تیزی سے پھیلائی جا رہی ہے کہ پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ہنگامی طور پر تہران روانہ ہو رہے ہیں۔ اس وائرل پوسٹ کا مقصد سوشل میڈیا صارفین میں سنسنی اور ابہام پیدا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران، امریکہ مذاکرات حج کے بعد اسلام آبادمیں متوقع، العربیہ کا دعویٰ
حقیقت یہ ہے کہ مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں پاکستان کے روایتی سفارتی رابطوں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی عمومی کوششوں کا ذکر ضرور موجود ہے، تاہم ایسی کوئی مصدقہ خبر سرے سے موجود ہی نہیں کہ پاکستانی فوجی سربراہ فیلڈ مارشل خود ایران کا دورہ کریں گے، جیسا کہ ان وائرل اور جعلی پوسٹس میں بڑھا چڑھا کر دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی طرف سے باضابطہ طور پر فیلڈ مارشل کے ممکنہ دورہ ایران سے متعلق تاحال کوئی بھی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
فیکٹ چیک اور غیر مصدقہ ذرائع پر نظر:
دفاعی اور صحافتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور غیر مصدقہ ذرائع نے خطے کی صورتحال کو جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ عالمی فیکٹ چیک پلیٹ فارمز ماضی میں بھی اس مخصوص اکاؤنٹ اور اس نوعیت کے کئی دیگر گمراہ کن دعوؤں کو مانیٹرنگ کے بعد “فیک نیوز” قرار دے چکے ہیں۔ یہ تازہ ترین دعویٰ بھی مکمل طور پر سیاق و سباق سے ہٹ کر، من گھڑت اور انتہائی گمراہ کن ہے جس کی کوئی واضح، قانونی اور سرکاری تصدیق موجود نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: ‘پاکستان کی سفارت کاری قابلِ تحسین ہے’، امریکی کانگریس پاکستان کاکس کا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے اظہارِ تشکر
اس حساس صورتحال کے پیشِ نظر عوام اور سوشل میڈیا صارفین سے پرزور گزارش کی گئی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی غیر مصدقہ اور سنسنی خیز خبر پر یقین نہ کریں اور معلومات صرف اور صرف معتبر و سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔ سوشل میڈیا صارفین کو بھی کڑی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قومی سلامتی اور بین الاقوامی امور سے جڑے معاملات پر شدید احتیاط برتیں اور بغیر تصدیق کے غلط معلومات کی آگے ترسیل کرنے سے مکمل گریز کریں۔




