واشنگٹن (کشمیر ڈیجیٹل)امریکی ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ڈیل نہ ہوئی تو ایران پر 2 سے 3 روز میں حملہ کرسکتے ہیں، ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوا تو وہ سب سے پہلے اسرائیل کو نشانہ بنائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل نہیں ہوتی تو امریکا دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس بال روم کی تعمیری سائٹ کے دورے پر میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس ہتھیار آگیا تو سوال بس یہ ہوگا کہ وہ اسے پہلے منٹ میں استعمال کریں گے؟ پہلے گھنٹے میں یا پہلے دن؟
مزید یہ بھی پڑھیں:ماہ اگست میں چاند پر پراسرار دھماکہ؟ ماہرین نے پیشگوئی کر دی
امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوا تو وہ سب سے پہلے اسرائیل کو نشانہ بنائیں گے ، وہ اسرائیل کو تباہ کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ اس لیے ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، وقت محدود ہے ، ایران کو ایک بڑا دھچکا دینا ہوگا۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایران کو ایک اچھے معاہدے کی پیشکش کی ہے، ایران کے معاملے پر میرے اور نیتن یاہو کے درمیان اتفاق ہے۔
انہوں نے کہاکہ نیتن یاہو کو جو کہیں گے وہ کرےگا، ہمیں آبنائے ہرمز کھولنا پڑے گا لیکن اس میں کوئی جلدی نہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سینٹرل یونین آف جرنلسٹس مظفرآباد کے الیکشن کا شیڈول جاری
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ چینی صدر سے بہت اچھی ملاقات ہوئی، اور اس دوران اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا، شی جن پنگ اچھے آدمی ہیں۔
اس سے قبل گزشتہ روز صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے ہی والے تھے کہ اس سے فقط ایک گھنٹہ قبل وہ کارروائی مؤخر کرنے کے لیے قائل ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم مکمل طور پر تیار تھے اور وہ حملہ اس وقت ہو رہا ہوتا۔
ٹرمپ کے مطابق وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ تقریباً کر چکے تھے جس سے امریکا اور ایران کے درمیان موجود غیر یقینی جنگ بندی باضابطہ طور پر ختم ہو جاتی۔
واضح رہے کہ پاکستان کی درخواست پر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی جو اب تک برقرار ہے۔ اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔




